امریکا نے کینیڈا کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا کو اپنے اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی کا کہنا تھا کہ کینیڈا نے چینی گاڑیوں کو اپنی مارکیٹ میں آنے کی اجازت دے کر غلط فیصلہ کیا ہے اور یہ گاڑیاں امریکا میں داخل نہیں ہونے دی جائیں گی۔واضح رہے کہ کینیڈا نے 2024ء میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا تاہم گزشتہ روز وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیاں 6.1 فیصد ٹیرف پر کینیڈا درآمد کی جا سکیں گی۔امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے مطابق یہ گاڑیاں صرف کینیڈا تک محدود رہیں گی اور امریکی آٹو انڈسٹری پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے آٹو ورکرز کے تحفظ کے لیے چینی گاڑیوں پر سخت ٹیرف کا فیصلہ قائم رکھے گا۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کینیڈا نے دفاعی تیاریاں شروع کردیںاُنہوں نے کہا کہ امریکا میں گاڑیوں کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں جس کے باعث چینی گاڑیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں آنا مشکل ہوگا۔