واشنگٹن (17 جنوری 2026): گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی امریکی خواہش محض ایک جغرافیائی یا عسکری سوچ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بااثر امریکی کاروباری شخصیت اور معروف کاسمیٹکس کمپنی کے مفادات کارفرما ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔یورپی ممالک کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ارادے پر شدید تحفظات اور کھلے انتباہات سامنے آنے کے بعد اس معاملے کے پس منظر میں موجود کردار مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔فرانس کے وزیرِ خزانہ رولان لیسکور نے حال ہی میں امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ ڈنمارک کے زیرِ انتظام قطبی جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کی کوئی بھی کوشش یورپ کی ’’سرخ لکیروں‘‘ کو عبور کرنے کے مترادف ہو گی۔فرانسیسی وزیر خزانہ کے مطابق گرین لینڈ ایک خود مختار ریاست کا حصہ اور یورپی یونین سے وابستہ علاقہ ہے، اس لیے اس کی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یورپ اور امریکا کے درمیان معاشی تعلقات کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی وینزویلا میں اہم شخصیت سے ملاقات، کیا گفتگو ہوئی؟2018 میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن نے اخبار دی گارڈین کو بتایا کہ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایک دن ڈونلڈ ٹرمپ نے مجھے اوول آفس میں بلایا، اور کہا کہ ایک نمایاں تاجر نے ابھی تجویز دی ہے کہ امریکا کو گرین لینڈ خرید لینا چاہیے۔ یہ ایک غیر معمولی تجویز تھی، اور اس کا آغاز صدر کے ایک دیرینہ دوست کی جانب سے ہوا تھا، جو بعد میں ڈنمارک کے زیرِ انتظام اس علاقے میں کاروباری مفادات حاصل کرنے والا تھا۔ بولٹن کے مطابق یہ تاجر رونالڈ لاؤڈر تھے۔Ronald-Lauderرونالڈ لاؤڈر عالمی کاسمیٹکس برانڈ ’’ایسٹی لاؤڈر‘‘ سے جڑی دولت کے وارث ہیں اور ایک دولت مند نیویارکر کی حیثیت سے ٹرمپ کو 60 برس سے زیادہ عرصے سے جانتے ہیں۔ بولٹن کا کہنا ہے کہ انھوں نے گرین لینڈ سے متعلق اس تجویز پر خود لاؤڈر سے بھی گفتگو کی۔ اس ارب پتی کی مداخلت کے بعد وائٹ ہاؤس کی ایک ٹیم نے گرین لینڈ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے طریقوں پر غور شروع کر دیا۔بولٹن کے مطابق ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں لاؤڈر کے اس خیال کو دوبارہ آگے بڑھانا صدر کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔’’وہ دوستوں سے سنی ہوئی باتوں کو حقیقت مان لیتے ہیں، اور پھر ان کی رائے بدلنا ممکن نہیں رہتا۔‘‘ یہ تجویز بظاہر ٹرمپ کے سامراجی عزائم کو بھڑکانے کا سبب بنی ہے۔ 8 سال بعد وہ اب صرف گرین لینڈ خریدنے پر غور نہیں کر رہے بلکہ ممکنہ طور پر طاقت کے ذریعے اسے حاصل کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔گارڈین کے مطابق صدر کے گرد موجود بہت سے افراد کی طرح، لاؤڈر کی پالیسی سے متعلق تجاویز بھی ان کے کاروباری مفادات سے جڑی نظر آتی ہیں۔ جیسے جیسے ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں بڑھائی ہیں، ویسے ہی لاؤڈر نے وہاں تجارتی اثاثے حاصل کر لیے ہیں۔ لاؤڈر اس کنسورشیم کا بھی حصہ ہیں جو یوکرین کے معدنی وسائل تک رسائی کی خواہش مند ہے۔لاؤڈر کا کہنا ہے کہ ان کی ملاقات ٹرمپ سے 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی، جب دونوں نے ایک ہی معروف بزنس اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ خاندانی کاسمیٹکس کاروبار میں کام کرنے کے بعد، لاؤڈر نے رونالڈ ریگن کے دور میں پینٹاگون میں خدمات انجام دیں، پھر آسٹریا میں امریکی سفیر مقرر ہوئے، اور 1989 میں نیویارک کے میئر کے عہدے کے لیے ناکام انتخابی مہم بھی چلائی۔اخبار کے مطابق رونالڈ لاؤڈر گرین لینڈ میں پہلے ہی متعدد کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جن میں نایاب معدنی وسائل کی تلاش، لگژری پانی کی برآمد، اور پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔ لاؤڈر کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ میں موجود قیمتی معدنی ذخائر اور برف پگھلنے کے نتیجے میں کھلنے والے نئے بحری راستے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ مستقبل کی عالمی سلامتی کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔یوں گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش محض سیاسی یا دفاعی حکمتِ عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے طاقتور تجارتی مفادات اور ایک عالمی کاسمیٹکس کمپنی کے وارث کی سوچ بھی نمایاں طور پر کارفرما دکھائی دیتی ہے۔