برطانیہ میں ایئر لائنز کو بڑی اجازت مل گئی

Wait 5 sec.

لندن (03 مئی 2026): برطانوی حکومت نے نئی منصوبہ بندی کے تحت ایئرپورٹ پارکنگ سروسز کو آسان بنا دیا، ایئر لائنز کو فلائٹس منسوخ کرنے کی سہولت میں عارضی آسانی دے دی گئی۔بی بی سی کے مطابق برطانیہ میں اب امریکا ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی کمی کے باعث ایئر لائنز ہفتوں پہلے ہی پروازیں منسوخ کر سکیں گی، اور اس کے باوجود مصروف ایئرپورٹس پر اپنے قیمتی ٹیک آف اور لینڈنگ سلاٹس سے محروم نہیں ہوں گی۔اس ہنگامی منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ ایئرلائنز پیشگی منصوبہ بنا سکیں اور مسافروں کو عین آخری وقت میں ہونے والی پریشان کن منسوخیوں سے بچایا جا سکے۔ چناں چہ، حکومتی تجاویز کے تحت ایئر لائنز کو اجازت ہوگی کہ وہ ایک ہی دن میں ایک ہی منزل کے لیے متعدد پروازوں کو یکجا کر دیں، جس کے نتیجے میں مسافروں کو ان کی اصل بکنگ سے کسی ملتی جلتی پرواز میں منتقل کیا جا سکے گا تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔یہ منصوبہ کیسے کام کرے گا، اس حوالے سے سفری صحافی سائمن کالڈر نے جرمن ایئرلائن لفتھانزا کی مثال دی۔ انھوں نے کہا لفتھانزا اس وقت لندن ہیتھرو اور فرینکفرٹ کے درمیان روزانہ 10 پروازیں چلاتی ہے۔ چوں کہ، گرمیوں کے وسط میں کاروباری مسافر کم ہوتے ہیں، لہٰذا لفتھانزا کہہ سکتی ہے کہ ہم ان میں سے 2 یا 3 پروازیں منسوخ کر رہے ہیں، اور مسافروں کو صبح 8:30 کی بجائے 10:30 والی پرواز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا ’’اس کا مقصد ایندھن بچانا ہے، خاص طور پر ان مسافروں کے لیے جو مانچسٹر سے یونان کے جزیرے اسکیا تھوس جا رہے ہوتے ہیں، جہاں روزانہ پروازیں نہیں ہوتیں۔‘‘ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ فی الحال انھیں ایندھن کی فراہمی میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث سپلائی میں رکاوٹ آنے سے چند ہفتوں میں قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ برطانیہ اپنے استعمال ہونے والے جیٹ فیول کا تقریباً 65 فی صد درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ عام حالات میں مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یہ سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کہیں اور سے مزید ایندھن نہ لایا گیا تو جون تک یورپ بھر میں قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ایئر لائنز کو آدھی خالی پروازیں کیوں چلانی پڑتی ہیں؟حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایئرلائنز پیشگی اپنے شیڈول میں تبدیلی کر کے ایندھن بچائیں، مثلاً ایسے روٹس پر جہاں ایک ہی منزل کے لیے کئی پروازیں ہوتی ہیں، روزانہ ایک یا دو پروازیں کم کر دی جائیں۔ عام طور پر ایئرلائنز ایسا کرنے سے گریز کرتی ہیں کیوں کہ اس سے انھیں ہیتھرو اور گیٹوک جیسے ہوائی اڈوں پر اپنے ٹیک آف اور لینڈنگ سلاٹس برقرار رکھنے کا حق خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ سلاٹس نہایت قیمتی ہوتے ہیں اور ایئرلائنز کے درمیان تجارت میں ان کی قیمت کروڑوں پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔برطانیہ کی ایئر لائن بند ہو گئی، تمام پروازیں فوری طور پر منسوختیل کی قیمتیں لے ڈوبیں، امریکا کی سستی ترین ایئر لائن بند ہو گئیعام طور پر موسمِ گرما یا موسمِ سرما کے لیے دیے گئے سلاٹس اگلے سال تک منتقل ہو جاتے ہیں، لیکن ایک اہم شرط ہوتی ہے کہ انھیں کم از کم 80 فی صد وقت استعمال کیا جائے، ورنہ وہ حریف ایئرلائنز کو مل سکتے ہیں۔ عملی طور پر اس وجہ سے ایئرلائنز بعض اوقات آدھی خالی پروازیں بھی چلاتی رہتی ہیں تاکہ اپنے سلاٹس برقرار رکھ سکیں۔اتوار کو اعلان کیے جانے والے اس نئے منصوبے کے تحت ایئرلائنز کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ عارضی طور پر غیر استعمال شدہ سلاٹس واپس کر سکیں، جب کہ اگلے سال بھی انھیں استعمال کرنے کا حق برقرار رہے گا۔