امریکا سے مذاکرات کا انحصاراس کے رویے پر ہے، رضا امیری مقدم

Wait 5 sec.

اسلام آباد(3 مئی 2026): ایران نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور امریکا کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار پر ایک بار پھر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے خبر رساں ادارے ‘ارنا’ کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ثالث کے طور پر برقرار ہے۔ایرانی سفیر نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکی اور صہیونی جارحیت کے خاتمے کے لیے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس کی تجاویز گزشتہ دنوں مرکزی ثالث پاکستان کے حوالے کر دی گئی ہیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستانی حکام نے یہ ایرانی تجاویز امریکی فریق تک پہنچا دی ہیں، جس کی تصدیق متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھی کی ہے۔رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر ہے۔ اگر امریکا واقعی مسائل کا حل اور مذاکرات میں پیشرفت چاہتا ہے تو اسے اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے موقف اور مطالبات میں مکمل طور پر واضح ہے اور کسی بھی سطح پر ثالث کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ایرانی سفیر نے جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو "قابلِ قدر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت اپنے پاکستانی بھائیوں کی ان مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وساطت سے پیغامات کے تبادلے اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اس حوالے سے امریکی فریق کی پوزیشن بھی بظاہر ایران سے ملتی جلتی ہے، جو پاکستان کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔