کابل: افغانستان کے صوبہ کُنر میں حالیہ حملوں کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ طالبان انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی فوج اب براہ راست محاذ آرائی کے بجائے رہائشی علاقوں، اسکولوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنا رہی ہے۔طالبان حکام کے مطابق ضلع دانگام میں کیے گئے ان حملوں میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 14 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ حملوں میں دو اسکول، ایک کلینک اور دو مساجد مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 80 مویشیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جس سے مقامی لوگوں کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔دانگام کے طالبان ضلع گورنر محمد عمر صادق نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی فوج اب کھلے میدان میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے، اسی لیے وہ شہری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبہ کُنر میں اب تک بارہ اسکول تباہ کیے جا چکے ہیں، جو علاقے میں تعلیم کے نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔اس سے قبل 28 اپریل کو افغانستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں تعینات پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے ان حملوں پر سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ افغان حکام نے پاکستان پر ڈیورنڈ لائن کے قریب عوامی بنیادی ڈھانچے اور کُنر کے مرکزی علاقے میں واقع ایک جامعہ کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا تھا۔افغان وزارت خارجہ نے ان کارروائیوں کو افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا سبب بن رہی ہیں۔افغانستان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز آئے اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں تعاون کرے۔ ساتھ ہی افغان حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے ملک اور شہریوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دیا جائے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی صوبہ کُنر کے اسد آباد اور سرکانو علاقوں میں حملے ہوئے تھے، جن میں سات افراد ہلاک اور پچھتر زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے طلبہ اور عملے کو نقصان پہنچا تھا۔گزشتہ چند مہینوں کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں مسلسل تناؤ دیکھا جا رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر عدم استحکام پیدا کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔