اکھلیش یادو کا بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزام، بنگال میں رامپور ماڈل دہرانے کا دعویٰ

Wait 5 sec.

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں نے مل کر ایک ایسا طریقہ اپنایا جو پہلے اتر پردیش کے رامپور ضمنی انتخاب میں آزمایا جا چکا تھا اور اب اسے بنگال میں نافذ کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔اتوار کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے کہا کہ 2022 میں رامپور کے ضمنی انتخاب کے وقت جس طرح انتخابی افسران اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی تھی، وہ سب کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق اسی ماڈل کو مغربی بنگال میں بھی اپنایا گیا، جہاں مرکزی فورسز اور نیم فوجی دستوں کا ایک متوازی نظام قائم کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ صرف سیکورٹی کے لیے الگ ڈھانچہ بنایا گیا بلکہ مقامی پولیس کے متوازی بھی ایک الگ انتظام کھڑا کیا گیا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ اس پورے عمل کے ذریعے انتخابی ماحول کو ایک خاص سمت میں لے جانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ مغربی بنگال میں ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت میں حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’دیدی تھیں، دیدی رہیں گی، وہ لڑیں گی اور جیتیں گی بھی۔‘‘ای وی ایم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر شبہ ظاہر کیا اور کہا کہ جب اسمارٹ میٹر میں بے ایمانی ممکن ہے تو ای وی ایم میں کیوں نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنا مناسب نہیں اور اس پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے۔انہوں نے حال ہی میں ملک بھر کے موبائل فون پر آئے الرٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثرات کی مثال ہے، مگر اس کے پیچھے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر موبائل بند ہونے کے باوجود الرٹ آ سکتا ہے تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے۔اکھلیش یادو نے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی پربھو نارائن کے حوالے سے کہا کہ انتخابات کے دوران کچھ عناصر گاؤں گاؤں جا کر ڈی جے کے ذریعے ماحول خراب کرنے اور نفرت پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔انہوں نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی "جھوٹ کی سون پاپڑی" تیار کرتی ہے، جس میں ایک جھوٹ کے اوپر دوسرا جھوٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مہنگائی کے مسئلے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ جیسے ہی مختلف ریاستوں میں انتخابات ختم ہوئے، گیس سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔ان کے مطابق ڈیزل، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہونے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے نہ کبھی مہنگائی پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کی اور نہ ہی اپنے حامیوں کو منافع خوری سے روکا، جس کے باعث عوام کو مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔