کینیڈا جانے کے خواہشمند ہوشیار! نئے امیگریشن قوانین نافذ

Wait 5 sec.

اسلام آباد : کینیڈا نے اپنی تازہ ترین امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد نظام میں شفافیت، سکیورٹی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے کینیڈا کی امیگریشن پالیسی میں ہونے والی نئی ترامیم (بل سی-12) کے تناظر میں عوام کو خبردار کرتے ہوئے ایک جامع آگاہی مہم شروع کی ہے۔کینیڈین حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد امیگریشن نظام میں شفافیت، سکیورٹی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا گزشتہ چند سالوں میں آبادی میں تیز رفتار اضافے کے بعد امیگریشن پر سخت کنٹرول نافذ کر رہا ہے اور ساتھ ہی امریکا میں امیگریشن قوانین کی سختیوں کے باعث اعلیٰ ہنرمند افراد کے لیے متبادل مواقع پیدا کر رہا ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ریفیوجی اور اسائلم درخواستوں کے طریقہ کار میں نمایاں سختی کی گئی ہے جبکہ مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے درخواستوں کے قواعد مزید محدود کر دیے گئے ہیں۔اگر کوئی درخواست دہندہ کینیڈا میں موجودگی کے باوجود بروقت درخواست جمع نہیں کرواتا تو اس کی درخواست کو مسترد یا ’ابینڈنڈ‘ قرار دیا جاسکتا ہے، ایسے افراد کو مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ امیگریشن کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے، اس اقدام سے سکیورٹی خطرات کی بہتر نشاندہی اور تدارک ممکن ہوگا۔حکام نے واضح کیا کہ کینیڈا کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ قومی مفاد، سکیورٹی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر امیگریشن درخواستوں (پی آر ،ٹی آر وی، ورک/ اسٹڈی پرمٹس) کو معطل یا منسوخ کرسکے۔اس کے علاوہ، کچھ اہم طریقہ کار بھی متعارف کرائے گئے ہیں جن کے مطابق اگر کوئی درخواست دہندہ کینیڈا میں موجود نہ ہو تو اس کی پناہ کی درخواست یا اپیل پر کارروائی عام طور پر آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔اگر کوئی شخص خود اپنی مرضی سے اس ملک واپس چلا جائے جہاں اسے خطرہ بتایا گیا تھا، تو اس کی درخواست کو ختم شدہ (abandoned) تصور کیا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی درخواست دہندہ امیگریشن حکام کی طرف سے طلب کیے گئے ضروری دستاویزات یا انٹرویوز میں شرکت نہ کرے تو بھی اس کی درخواست واپس لی ہوئی یا ختم شدہ سمجھی جا سکتی ہے۔بیورو نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیرقانونی ذرائع سے گریز کریں اور تمام درخواستیں درست معلومات کے ساتھ جمع کروائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچا جاسکے۔کینیڈا میں ملازمت اور مستقل رہائش کے مواقع، پاکستانیوں سے درخواستیں طلب