آدھار کارڈ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی افواہیں مسترد، حکومت نے خبروں کو گمراہ کن قرار دیا

Wait 5 sec.

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آدھار کارڈ کے ڈیزائن میں مبینہ تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کو صاف طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ آدھار کے فارمیٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا نہ تو کوئی فیصلہ لیا گیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ فی الحال زیر غور ہے۔الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی آدھار کارڈ کو ایک نہایت سادہ شکل میں متعارف کرایا جائے گا، جس میں صرف تصویر اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ وزارت نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔وزارت کے مطابق، اس طرح کی خبریں عوام کے درمیان غیر ضروری ابہام پیدا کر رہی ہیں اور لوگوں کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وقتاً فوقتاً اس نوعیت کی افواہیں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آدھار کے موجودہ نظام میں کسی بڑے ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے۔حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف مستند اور تصدیق شدہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔ اس ضمن میں خاص طور پر آدھار جاری کرنے والے ادارے اور سرکاری پریس ریلیز کو قابل بھروسہ قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کو پھیلانے سے گریز کریں۔یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آن لائن پلیٹ فارمز پر آدھار کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلیوں کی افواہیں تیزی سے پھیل رہی تھیں۔ حکومت نے ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور عوام کو ایسی گمراہ کن باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔آدھار دنیا کی سب سے بڑی بایومیٹرک شناختی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس کے ذریعے ملک میں شناخت کی تصدیق کا عمل آسان اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 134 کروڑ افراد آدھار سے وابستہ ہیں، جبکہ اس نظام کے ذریعے 17 ہزار کروڑ سے زائد تصدیقی لین دین مکمل کیے جا چکے ہیں۔حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آدھار نظام بدستور مضبوط اور مستحکم ہے اور اس میں کسی غیر ضروری تبدیلی کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔