امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن تہران نے کچھ غلط کیا تو دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔ ویسٹ پام بیچ فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق بہت اچھا کام کر رہے ہیں اس بات کا خدشہ ہے امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی سمندری ناکہ بندی دوستانہ ہے، اسے کوئی بھی چیلنج نہیں کر رہا۔خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ ’’دشمنی‘‘ ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے ایک پرانے قانون کے تحت 60 دن کی اہم ڈیڈ لائن کا حوالہ دیا تھا، جو کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ ایران کی طرف سے جمع کرائی گئی نئی امن ڈیل کا جلد جائزہ لیں گے۔ اس سے قبل دن میں ایرانی سرکاری میڈیا ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے امریکا کو 14 نکاتی تجاویز بھیج دی ہیں۔جب صدر ٹرمپ ایئر فورس وَن میں سوار ہو کر فلوریڈیا کے شہر ڈورل جانے والے تھے تو انھوں نے پام بیچ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’میں نے تجاویز کو ابھی تک نہیں دیکھا۔‘‘ٹرمپ نے کہا ’’میں یہاں اوپر اس کا جائزہ لے رہا ہوں۔ میں آپ کو بعد میں اس کے بارے میں بتاؤں گا… انھوں نے مجھے معاہدے کا ایک خاکہ بتایا ہے لیکن اب وہ مجھے اس کے درست الفاظ فراہم کریں گے۔‘‘