ہر سال 3 مئی کو ’ورلڈ پریس فریڈم ڈے‘ یعنی عالمی یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کی آزادی کے بنیادی اصولوں کا احترام کرنا اور دنیا بھر میں آزاد و غیر جانبدار میڈیا کی اہمیت کے تئیں بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس کا آغاز 1993 میں اقوام متحدہ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے ہر سال ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ بھی جاری کیا جاتا ہے۔ رواں سال ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اس انڈیکس میں مجموعی طور پر 180 ممالک کو شامل کیا گیا ہے جس میں ہندوستان 157ویں نمبر پر ہے۔ اس پر کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر، قوم کو ایک واضح اور ناقابل تردید حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔ 2014 سے، بی جے پی حکومت کے دوران، ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ہندوستان کی پوزیشن مسلسل گرتی رہی ہے، اور یہ 157ویں نمبر تک پہنچ چکی ہے۔‘‘ ان کے مطابق ایک آزاد صحافت اپنے حقیقی معنوں میں حکومت کے بیانیے کو بڑھاوا دینے یا اس کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد اقتدار سے سوال کرنا، طاقت کا باریک بینی سے جائزہ لینا، اور عہدیداروں کو جوابدہ ٹھہرانا ہے۔On World Press Freedom Day, the nation must confront a stark and undeniable reality. Since 2014, India’s position in the World Press Freedom Index has steadily declined, falling to 157th place, under the BJP regime. A free press, in its truest sense, does not exist to amplify…— Mallikarjun Kharge (@kharge) May 3, 2026ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر مزید لکھا کہ ’’میڈیا اقتدار اور عوام کے درمیان جمہوری توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ صحافی عوامی سچائی کے محافظ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ صحافت کی آزادی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کی ایک لازمی خصوصیت ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت یہ لازمی خصوصیت شدید طور پر متاثر ہو چکی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہو نے لکھا کہ ’’سنگھ پریوار نے خبروں کے اداروں کو خاموش کرانے کے لیے قانونی ڈھانچوں کو بتدریج ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ہتک عزت کے قوانین، قومی سلامتی سے متعلق دفعات، اور وسیع فوجداری قوانین کو انصاف کے آلات کے طور پر نہیں بلکہ خوف و ہراس پھیلانے کے اوزار کے طور پر بروئے کار لایا جا رہا ہے۔‘‘راجیہ سبھا رکن ملکارجن کھڑگے کے مطابق 2014 سے 2020 کے درمیان 135 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، حراست میں لیا گیا یا ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ 2014 سے 2023 کے درمیان 36 صحافیوں کو جیل میں ڈالا گیا۔ ظلم و ستم کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور کئی صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اسی دوران ایک نہایت تشویشناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، جو تشدد اور استثنا سے عبارت ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں صحافیوں کو اپنا فرض ادا کرنے پر قتل کیا جا رہا ہے۔ راگھویندر باجپئی اتر پردیش میں، مکیش چندراکر چھتیس گڑھ میں، راجیو پرتاپ سنگھ اتراکھنڈ میں، اور دھرمیندر سنگھ چوہان ہریانہ میں، یہ سب بدعنوانی اور عوامی مفاد کے مسائل پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ آج یہ سب اس بات کی دردناک یاد دہانی ہیں کہ اقتدار کے سامنے سچ بولنے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔اپنی طویل پوسٹ میں ملکارجن کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’اپنے موجودہ کنٹرول سے مطمئن نہ ہوتے ہوئے بی جے پی-آر ایس ایس حکومت اپنی مکمل بالادستی کی خواہش میں اب سوشل میڈیا پر بھی اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسے خاموش کیا جا سکے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس کا پیغام واضح ہے: آزادنہ صحافت کو سزا دی جائے گی اور تابعداری کرنے والوں کو انعام ملے گا۔ میڈیا کے کچھ حصوں کو صرف حکمراں طبقے کی آواز بننے تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ لوگ جو مسلسل سوال پوچھنے پر قائم ہیں، انہیں بے رحمی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘کانگریس لیڈر کے مطابق جب ہم عالمی یوم آزادی صحافت مناتے ہیں تو تمام فریقوں کے لیے گہری خود احتسابی کا وقت ہے۔ سب سے بڑھ کر، اقتدار میں موجود افراد کو ہمیشہ جمہوریت کے طویل عرصے سے قائم اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ان اصولوں سے کسی بھی قسم کا انحراف، اگر وقت کے ساتھ جاری رہے، تو معمول بن سکتا ہے اور حتیٰ کہ قابل قبول بھی سمجھا جانے لگتا ہے، جس سے جمہوری اقدار، روایات، اداروں اور عوام کو مستقل نقصان پہنچتا ہے جن کی وہ خدمت کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ حکومت کو خود کو اعلیٰ ترین معیار پر قائم رکھنا چاہیے۔ملکارجن کھڑگے کے علاوہ کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ سے ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس‘ پر ہندوستان کے 157ویں نمبر پر رہنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’ایک آزاد صحافت جمہوریت کی آواز ہوتی ہے، مگر آج یہ آواز حملوں کی زد میں ہے۔ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026 میں ہندوستان 157ویں نمبر پر ہے، جو اب ’انتہائی سنگین‘ زمرے میں شامل ہے۔‘‘ ساتھ ہی لکھا ’’عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر، کانگریس پارٹی ہر اُس بے خوف آواز کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جو اقتدار کے سامنے سچ بولتی ہے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔‘‘A free press is the voice of democracy, but today that voice is under attack. India ranks 157 in the World Press Freedom Index 2026, falling into the “very serious” category.On World Press Freedom Day, the Congress party stands firmly with every fearless voice that speaks truth… pic.twitter.com/qbluVtzaqW— Congress (@INCIndia) May 3, 2026