وزیر اعظم نریندر مودی رواں ماہ یورپ کے 4 ممالک کے اہم دورے پر جائیں گے۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق وہ 17-15 مئی تک نیدرلینڈ، 17 مئی کو سویڈن، 19-17 مئی تک ناروے اور 20-19 مئی تک اٹلی کا دورہ کریں گے۔ ان 4 ممالک کے دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات، تجارت، تکنیکی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری جیسے کئی امور پر تبادلہ خیال کا امکان ہے۔ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ایکواڈور کی وزیر خارجہ سے کی ملاقات، تجارت اور زراعت پر زورواضح رہے کہ نظریات اور مفادات میں بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے بڑھتے دباؤ کے درمیان ہندوستان-یورپ تعلقات نے مسلسل مستحکم ترقی کی ہے۔ اب یورپ کے ان 4 ممالک کا دورہ بھی اسی پیش رفت کی جانب ایک اور قدم مانا جا رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ کم ہوتے بھروسے کے بعد یورپی ممالک ہندوستان کی طرف نظریں جمائے ہوئے ہیں، کیونکہ ایشیا میں ہندوستان کے ساتھ شراکت داری فریقین کے لیے ایک فائدہ مند سودا ثابت ہو سکتی ہے۔ہندوستان کے نیدرلینڈ، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے ساتھ مضبوط سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ یہ یورپی ممالک ہندوستان کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں، نیدرلینڈ یورپی یونین میں سب سے بڑا، اٹلی چوتھا، سیمی کنڈکٹر، آبی انتظام، دفاع، گرین انرجی، جدت طرازی اور ماحولیات جیسے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے اس دورے سے یہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔وزیر اعظم مودی نے آسٹریائی چانسلر اسٹاکر سے کی ملاقات، دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیالقابل ذکر ہے کہ آسٹریا کے فیڈرل چانسلر کرسچن اسٹاکر نے گزشتہ ماہ 17-14 اپریل کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ ان کا پہلا اہم دورہ تھا، جس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ دوطرفہ میٹنگ بھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر انالینا بیربوک (جرمنی کی سابق وزیر خارجہ) نے بھی گزشتہ ماہ 28-27 اپریل کو ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی یہ ملاقاتیں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے قد کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔