مظفرنگر: مدرسہ یاسینیہ کھوڈہ میں اصلاحی نشست، طلبہ کو استقامت اور پاکیزہ کردار اپنانے کی تلقین

Wait 5 sec.

مظفرنگر: مدرسہ یاسینیہ کھوڈہ، ضلع مظفرنگر میں ایک اہم اصلاحی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے بعد نمازِ عشاء طلبہ سے خطاب کیا اور انہیں استقامت، عزم اور پاکیزہ کردار اپنانے کی تلقین کی۔اپنے خطاب میں مولانا حکیم الدین قاسمی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو صبر، استقامت اور قربانی کا مکمل نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؐ کی زندگی مسلسل آزمائشوں سے عبارت رہی، مگر ہر مرحلے پر آپؐ نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور کی سختیوں اور طائف میں پیش آنے والی اذیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے ہمیں صبر و ثبات کا عملی درس ملتا ہے۔انہوں نے واقعۂ ہجرت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے اسلامی تاریخ کا نقطۂ آغاز قرار دیا اور کہا کہ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کے تحفظ اور اس کی سربلندی کے لیے ہر طرح کی قربانی دینی چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہجرت کے دوران ان کی بے مثال محبت اور ایثار امت کے لیے روشن مثال ہے۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا کہ یہ پہلا موقع تھا جب کسی کو خوشی میں روتے دیکھا گیا۔مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ اسلامی تقویم کا آغاز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں واقعۂ ہجرت سے کیا جانا اس واقعہ کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں کو اخلاص، ایثار اور قربانی سے بھرپور قرار دیتے ہوئے غزوۂ بدر اور احد کے واقعات کی روشنی میں بتایا کہ کامیابی کا دارومدار تعداد پر نہیں بلکہ ایمان، یقین اور اللہ پر توکل پر ہوتا ہے۔انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ قرآن مجید سے مضبوط تعلق قائم رکھیں، نمازوں کی پابندی کریں اور ہر حال میں صبر اور حوصلہ کو اپنا شعار بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مدارس دینیہ دراصل صفہ کی یادگار ہیں، جہاں سے علم، اخلاص اور خدمتِ دین کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور برکت کے غیر معمولی مظاہر کی طرف اشارہ کیا۔اس موقع پر مدرسہ کے مہتمم قاری جعفر نے مہمان مقرر کا استقبال کرتے ہوئے ادارہ کی دینی و تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی۔ اسی نشست میں جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا عظیم اللہ صدیقی نے بھی خطاب کیا اور طلبہ کو ترکِ معاصی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ علم کے ساتھ عمل اور تقویٰ کو اختیار کرنا ناگزیر ہے۔