یو ڈی ایف کی شاندار جیت پر کے سی وینوگوپال اور جے رام رمیش نے کیرالہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا

Wait 5 sec.

کیرالہ میں کانگریس اتحاد نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیٹوں کی سنچری کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔ رجحانات میں کانگریس اتحاد 98 سیٹیں حاصل کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جن میں سے 28 سیٹوں پر فتح حاصل بھی ہو چکی ہے۔ یعنی سنچری سے کانگریس اتحاد محض 2 قدم پیچھے ہے۔ 140 سیٹوں والی اس ریاست میں حکومت سازی کے لیے 71 سیٹوں کی ضرورت ہے۔ اس شاندار جیت پر کانگریس کے سرکردہ رہنما کے سی وینوگوپال اور جے رام رمیش کا ردعمل سامنے آیا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا رکن کے سی وینوگوپال نے انتخابی نتائج کو عوامی جذبات میں ایک فیصلہ کن تبدیلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتائج پوری ریاست کیرالہ میں تبدیلی کی حامی لہر کے بارے میں اپوزیشن کے اندازے کو درست ثابت کرتے ہیں۔ پوری انتخابی مہم کے دوران ہم یہی کہتے رہے کہ ایک لہر بن رہی ہے۔ یہاں تک کہ جب ایگزٹ پول نے اس کے برعکس اشارے دیے، تب بھی ہمیں کامل جیت کا یقین تھا اور ہم 100 سیٹوں کا اعداد و شمار عبور کرنے کی امید کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اندازہ زمینی سطح پر مسلسل ملنے والے فیڈ بیک پر مبنی تھا۔ ہم ووٹرس کی نبض بھانپ سکتے تھے، اور آج کا فیصلہ اسی احساس کو ظاہر کرتا ہے۔The Indian National Congress extends its heartfelt gratitude to the people of Keralam for granting the UDF the opportunity to serve with a resounding majority. We recognise our responsibility and pledge to live up to the trust that the people of Keralam have reposed in us.With…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) May 4, 2026کانگریس راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش ’ایکس‘ پر لکھتے ہیں کہ ’’انڈین نیشنل کانگریس کیرالہ کے عوام کی دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہے کہ انہوں نے یو ڈی ایف کو واضح اکثریت کے ساتھ خدمت کا موقع دیا۔ ہم اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ کیرالہ کے عوام نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے، اس پر پورا اتریں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہو ںے لکھا کہ ’’کیرالہ کے علاوہ دیگر مقامات پر انتخابی نتائج ہماری توقعات کے مطابق نہیں رہے۔ تاہم، ہم نہ مایوس ہیں اور نہ ہی دل برداشتہ۔‘‘جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’’ہم ایک نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آمریت اور جھوٹ کے خلاف جمہوریت اور سچائی کی جدوجہد کا راستہ ہمیشہ طویل اور مشکل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، ہم غیر متزلزل عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔ ہم جلد ہی نتائج کا جامع تجزیہ کریں گے۔ کیرالہ میں مبصرین بھیجنے کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔‘‘