ایران کی نئی تجاویز، امریکا کیساتھ مذاکرات میں ایٹمی پروگرام پر لچک کا مظاہرہ، عرب میڈیا

Wait 5 sec.

(3 مئی 2026): ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اپنی بعض شرائط سے دستبرداری اختیار کر لی اور جوہری پروگرام کو بات چیت میں شامل کرنے پر راضی ہوگیا۔یہ دعویٰ العربیہ پر شائع رپورٹ میں کیا گیا جس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایران نے اپنی بعض شرائط سے دستبرداری اختیار کر لی اور وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں جوہری پروگرام کو شامل کرنے پر راضی ہوگیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سے قبل ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کی تجویز میں سب سے پہلے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے کیلیے چھوڑ دیا جائے گا۔تاہم، العربیہ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران اب اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کیلیے تیار ہے اور اس نے یورینیم افزودگی کو 3.5 فیصد تک محدود کرنے جبکہ افزودہ یورینیم کے موجودہ ذخیرے میں بتدریج کمی لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ ترمیم شدہ تجویز میں امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی پیشکش شامل ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے خطے سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی ترک کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایران اپنے اردگرد امریکی فوج کی موجودگی میں کمی اور مستقبل میں ممکنہ حملوں کے خلاف بین الاقوامی ضمانتوں کا خواہاں ہے۔