ملک کی سات اسمبلی نشستوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج اور رجحانات میں سیاسی تصویر واضح ہوتی جا رہی ہے۔ اب تک چار سیٹوں کے نتائج کا باضابطہ اعلان ہو چکا ہے، جن میں سے تین پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایک نشست کانگریس کے کھاتے میں گئی ہے۔ مجموعی رجحانات کے مطابق بی جے پی کے کھاتے میں چار، کانگریس کے کھاتے میں 2 جبکہ ایک سیٹ این سی پی کے کھاتے میں جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔کرناٹک میں کانگریس نے مضبوط واپسی کے آثار دکھائے ہیں۔ داوانگیری ساؤتھ سیٹ پر کانگریس کے سمرتھ شمانور ملکارجنا 64039 ووٹ لے کر 5824 ووٹوں سے آگے ہیں۔ اسی طرح بگلاکوٹ سیٹ پر بھی کانگریس کے امیش ہلاپا میٹی 98919 ووٹ حاصل کر کے 22332 ووٹوں کی برتری کے ساتھ سبقت بنائے ہوئے ہیں۔ ان دونوں نشستوں پر کانگریس کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے اور یہ سیٹیں اس کے کھاتے میں جاتی نظر آ رہی ہیں۔مہاراشٹر ہی کی اہم بارامتی سیٹ پر این سی پی کی سنیترا اجیت پوار مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ وہ 112368 ووٹ حاصل کر کے اپنے قریبی حریف سے 11977 ووٹوں سے آگے ہیں۔ اس نشست پر دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ کئی امیدواروں کو نہایت کم ووٹ ملے، جس سے مقابلہ یکطرفہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔تمل ناڈو اسمبلی انتخابات LIVE: ٹی وی کے بنی نمبر 1، ڈی ایم کے اتحاد نے اے ڈی ایم کے اتحاد کو تیسرے مقام پر دھکیلا!مہاراشٹر کی راہوری سیٹ پر مقابلہ تقریباً یکطرفہ ہو چکا ہے۔ بی جے پی کے اکشے شیواجی راؤ کارڈیلی 139541 ووٹ حاصل کر کے اپنے حریف سے 112070 ووٹوں کے بھاری فرق سے آگے چل رہے ہیں۔ یہ برتری اتنی بڑی ہے کہ ان کی جیت تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سیٹ پر ان کے والد کے سیاسی ورثے کا اثر بھی نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔گجرات کی کی بات کریں تو یہاں کی اُریٹھ سیٹ پر بی جے پی کے ہرشد بھائی گووند بھائی پرمار نے واضح جیت درج کی ہے۔ انہوں نے 85500 ووٹ حاصل کیے اور اپنے قریب ترین حریف کو 30743 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔کیرالہ انتخابات LIVE: رجحانات میں کانگریس اتحاد سنچری کے قریب، اب تک 28 سیٹوں پر فتحیابشمال مشرق میں ناگالینڈ کی کوریڈانگ سیٹ پر بی جے پی کے داؤچیئر ایمچن نے 7317 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور 3123 ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی۔ اسی طرح تریپورہ کی دھرم نگر سیٹ پر بھی بی جے پی کے جہار چکرورتی نے 24291 ووٹ حاصل کرتے ہوئے 18290 ووٹوں کے واضح فرق سے کامیابی اپنے نام کی۔ان ضمنی انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تمام نشستیں مختلف وجوہات کی بنا پر خالی ہوئی تھیں، جن میں زیادہ تر معاملات موجودہ یا سابقہ اراکین اسمبلی کے انتقال سے جڑے تھے۔