تمل ناڈو: ’کانگریس کی ایک باوقار تاریخ رہی ہے‘، وجے کے والد نے کانگریس کو اتحاد کا دیا کھلا آفر!

Wait 5 sec.

تمل ناڈو کی سیاست میں تھلاپتی وجے ایک نئے سیاسی کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔ ٹی وی کے پہلی ہی بار میں تمل ناڈو میں ایک بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اس درمیان تھلاپتی وجے کے والد ایس اے چندرشیکھر نے کانگریس کو ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کا کھلا آفر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے دیگر پارٹیوں کو حمایت دے کر اپنی سیاسی طاقت کمزور کر لی ہے اور اب اس کے سامنے خود کو مضبوط کرنے کا موقع ہے۔تمل ناڈو میں تھلاپتی وجے کا چل گیا جادو، فلموں کے بعد سیاست میں بھی بنے ’ہیرو‘ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ایس اے چندرشیکھر نے کہا کہ ’’کانگریس کی اپنی ایک باوقار تاریخ اور روایت رہی ہے۔ لیکن اتنی مضبوط وراثت کے باوجود پارٹی کمزور کیوں ہو رہی ہے؟ اس کی وجہ ہے اقتدار کی کمی۔ جب کوئی پارٹی مسلسل دوسروں کو حمایت دیتی ہے، تو اس کا مینڈیٹ کمزور ہونے لگتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’وہ طاقت ہم دیں گے۔ ہم نہیں بلکہ وجے کانگریس کو وہ طاقت دینے کے لیے تیار ہے۔ اگر کانگریس کو یہ اقتدار ملتی ہے تو اپنی پرانی شناخت اور مضبوطی کو پھر سے حاصل کر سکتی ہے۔ کانگریس کو اس موقع کا پورا استعمال کرنا چاہیے۔‘‘وجے کے والد ایس اے چندرشیکھر نے کانگریس کو تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) کے ساتھ اتحاد پر غور کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ادکار سے سیاست بنے وجے اقتدار میں حصہ داری کے خواہش مند ہیں۔ اپنے بیٹے کی بدلتی ہوئی شخصیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وجے معاشرے اور تمل عوام کی خدمت کے لیے وقف ہیں اور عوام کے ساتھ ان کا گہرا جذباتی لگاؤ نوجوانوں سے لے کر بزرگ حامیوں تک، تمام نسلوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔اس سے قبل تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے کچھ لیڈران نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) کی حمایت کر سکتی ہے۔ حالانکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ ریاستی یونٹ سے ملی جانکاری کے بعد اعلیٰ کمان کے ذریعہ لیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ٹی وی کے کو حمایت دے سکتی ہے۔ پارٹی ترجمان اپسرا ریڈی نے ایک میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں، اس طرح کے کسی بھی قدم کے لیے میں اصولی طور سے اپنا رخ بدل سکتی ہوں، لیکن حتمی فیصلہ پارٹی پر منحصر کرتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر مقصد ڈی ایم کے کو اتحاد سے باہر رکھنا ہے، تو اے آئی اے ڈی ایم کے اس پر غور کر سکتی ہے۔‘‘تمل ناڈو اسمبلی انتخاب: وجئے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ نے کیے کئی خوشنما انتخابی وعدے، ہر شادی میں 8 گرام سونا دینے کا عزمقابل ذکر ہے کہ وجے کی ٹی وی کے تمل ناڈو میں تاریخ رقم کرنے کو تیار ہے اور ریاست کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ کیونکہ وہ اکیلے دم پر 117 سیٹوں کی اکثریت کے قریب پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ انتخابی میدان میں پہلی بار میدان میں اترنے والی ٹی وی کے فی الحال 105 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے، جبکہ ڈی ایم کے 68 سیٹوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔