غلامی کی تاریخ کا حساب ہونا چاہیے، صدیوں کے استحصال نے افریقہ کو مقروض بنا دیا: سیرل رامافوسا

Wait 5 sec.

جوہانسبرگ: جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے افریقہ ماہ کے موقع پر غلامی کی تاریخ کے حوالے سے حساب اور ازالے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدیوں کے استحصال اور افریقی وسائل کی منظم لوٹ مار کے اثرات آج بھی براعظم کی معیشتوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔پیر کو اپنے ہفتہ وار نیوز لیٹر میں انہوں نے کہا کہ غلامی کے تناظر میں کیا جانے والا ازالہ صرف مالی ادائیگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں متاثرہ افریقی ممالک کے لیے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی اور معاشی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہونی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق سیرل رامافوسا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، مہارتوں کی فراہمی اور صدیوں پہلے لوٹی گئی ثقافتی وراثت کی غیر مشروط واپسی بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف تاریخی ناانصافی کے ازالے کے لیے ضروری ہیں بلکہ افریقی ممالک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ غلامی اور نوآبادیاتی دور کے اثرات آج بھی افریقی ممالک کے بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ اور معاشی عدم توازن کی صورت میں نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق یہ قرض کا بوجھ محض موجودہ پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی عمل کا تسلسل ہے۔سیرل رامافوسا نے کہا، ’’نہ صرف لاکھوں افریقی باشندوں کو غلام بنایا گیا بلکہ نوآبادیاتی طاقتوں نے افریقی زمینوں پر قبضہ کر کے اور وسائل کا استحصال کر کے بے پناہ دولت حاصل کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ غلامی صرف انسانی غلامی تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسا نظام تھا جس کے ذریعے غیر انسانی طریقوں سے دولت اور ثقافتی اشیا حاصل کی گئیں، جن میں سے کئی آج بھی یورپ کے عجائب گھروں میں موجود ہیں۔انہوں نے غلام تجارت کو تاریخ کا ایک انتہائی ظالمانہ باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صدی سے زائد عرصے تک لاکھوں افریقی مردوں، خواتین اور بچوں کو پکڑ کر اشیا کی طرح خریدا اور فروخت کیا جاتا رہا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں غلامی کو انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرائم میں شمار کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی بیشتر ممالک نے حمایت کی جبکہ چند ممالک نے اس کی مخالفت کی اور بعض نے ووٹنگ سے گریز کیا۔سیرل رامافوسا کے مطابق غلامی کی تاریخ کا حساب اور اس کے اثرات کا ازالہ عالمی انصاف کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور اس سمت میں عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔