تہران(3 مئی 2026): پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ناممکن فوجی مہم جوئی کا خطرہ مول لیں یا ایرانی شرائط پر تلخ ڈیل کر لیں۔پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے پاس فیصلے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، صدر ٹرمپ ناممکن فوجی مہم جوئی کا خطرہ مول لیں یا پھر ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر سمجھوتا کر کے تلخ ڈیل قبول کر لیں۔پاسداران انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اور فیصلے کے لیے وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے۔یہ سخت بیانات ایران کی جانب سے امریکا کو بھیجے گئے اس 14 نکاتی منصوبے کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں تنازع کے خاتمے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ایران کے مطالبات میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت، آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کو بند کرنا شامل ہے۔اگرچہ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے پر نظرثانی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، تاہم وہ کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔دوسری جانب ایرانی مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری اور سابق آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی نے آبنائے ہرمز میں موجود امریکی افواج کو "قزاق” (سمندری ڈاکو) قرار دے دیا۔انہوں نے سخت لہجے میں دھمکی دی کہ امریکا دنیا کا وہ واحد قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، لیکن ایران ان بحری جہازوں کو غرق کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ناکہ بندی ختم نہ کی تو آبنائے ہرمز کو امریکی طیارہ بردار جہازوں اور فوجیوں کا "قبرستان” بنا دیا جائے گا۔