جنوبی ریاستوں کے ساتھ مالی امتیاز ہو رہا ہے، جی ایس ٹی اور بڑے منصوبوں میں حق نہیں ملتا: جی پرمیشور

Wait 5 sec.

بنگلورو: کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کو مالی معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر جی ایس ٹی کی تقسیم اور بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے معاملے میں انہیں مناسب حصہ نہیں مل رہا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں اس مسئلے کو اجتماعی طور پر اٹھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف کسی ایک ریاست کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے جنوبی خطے کی مشترکہ تشویش ہے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے اس موقف کی حمایت کی جس میں ملک کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ جی پرمیشور نے کہا کہ اکثر بڑی بنیادی ڈھانچے کی اسکیمیں شمالی ریاستوں کو دی جاتی ہیں جبکہ جنوبی ریاستوں کو ان کا حق نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں مرکز کو جی ایس ٹی کی مد میں بڑا حصہ دیتی ہیں اور اس اعتبار سے انہیں وسائل کی تقسیم میں مناسب حصہ ملنا چاہئے۔ ان کے مطابق یہ ایک جائز مانگ ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔کرناٹک میں کانگریس کی قیادت والی حکومت پر زیادہ قرض لینے کے الزام کے بارے میں پوچھے جانے پر جی پرمیشور نے کہا کہ ریاست مقررہ حد کے اندر رہ کر ہی قرض لے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضابطوں کے مطابق قرض لینے کی حد 25 فیصد کے اندر ہونی چاہئے اور کرناٹک اسی دائرے میں رہ کر مالیاتی فیصلے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو جنوبی ریاستوں میں کرناٹک کا قرض سب سے کم ہے جبکہ کئی دیگر ریاستوں نے اس سے زیادہ قرض لیا ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں قرض کی مقدار پچانوے لاکھ کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کرناٹک حکومت مکمل مالیاتی نظم و ضبط کے دائرے میں کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ سدارمیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان اختلافات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے جی پرمیشور نے کہا کہ اس طرح کے سیاسی واقعات جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ شیوکمار کی جانب سے عشائیہ کی میٹنگ بلانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ان کے مطابق جمہوری سیاست میں ایسے اجلاس پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور 1952 کے پہلے عام انتخابات کے بعد سے ہی سیاسی رہنما اس طرح کی ملاقاتوں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام رہنماؤں کو عشائیہ پر مدعو کرنا ایک مثبت قدم ہے جو سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔