لندن(5 مارچ 2026): برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس (MI6) کے سابق سربراہ سر جان سوئرز نے جاری جنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ‘غیر ضروری’ اقدام قرار دے دیا ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس (MI6) کے سابق سربراہ سر جان سوئرز نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ایک حالیہ انٹرویو میں جان سوئرز کا کہنا تھا کہ اس جنگ کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایران کی جانب سے پیشگی حملے کا کوئی خطرہ تھا ہی نہیں، ایسی فوجی کارروائی کے لیے جو جواز پیش کیے گئے تھے، وہ موجود نہیں تھے۔“This is an unnecessary war,” says former MI6 chief John Sawers. “It was not required, because it was not as if it was to pre-empt an imminent threat,” he tells me. “The very best you can expect is a sort of Venezuela-type outcome. But there are plenty of other, more dangerous… pic.twitter.com/oc5FUcp9kO— Dr.Sam Youssef Ph.D.,M.Sc.,DPT. (@drhossamsamy65) March 4, 2026سابق انٹیلیجنس چیف نے جنگ کے ممکنہ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ جس اچھے نتیجے کی آپ توقع کر سکتے ہیں، وہ وینزویلا جیسی صورتحال ہو سکتی ہے (جہاں شدید معاشی اور سیاسی بحران موجود ہے)۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔جان سوئرز کے مطابق اس جنگ سے نکلنے والے دیگر کئی نتائج اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔جان سوئرز کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایک سابق انٹیلیجنس چیف کی جانب سے اسے ‘غیر ضروری’ قرار دینا اس پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کے تحت یہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جان سوئرز کا اشارہ خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور طویل مدتی سیکیورٹی خطرات کی طرف ہے جو نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔