واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ہم حملہ نہ کرتے تو ایران کے پاس جلد ایٹم بم ہوتا تاہم ایران میں جو بھی لیڈر بننا چاہتا ہے انجام موت ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو امریکی تاریخ کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا امریکہ اس وقت جنگی محاذ پر انتہائی مستحکم اور بہترین پوزیشن میں ہے۔صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران میں اب جو بھی لیڈر بننے کی خواہش کرے گا، اس کا انجام صرف موت ہوگا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور ایران اب مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں آرہا ہے۔اپنی فوجی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "مجھ سے پوچھا گیا کہ میں اپنی کارکردگی کو 10 میں سے کتنے نمبر دوں گا، تو میں نے کہا کہ میں خود کو 15 نمبر دوں گا”۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی میزائلوں اور لانچرز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے کیونکہ ایران اپنے پڑوسیوں اور امریکی اتحادیوں کے لیے مسلسل خطرہ بن چکا تھا۔صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوباما کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اوباما نے نیوکلیئر ڈیل کے ذریعے ایران کو سب کچھ تھالی میں سجا کر دے دیا تھا، جو کہ ایک بدترین ڈیل تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم بروقت حملہ نہ کرتے تو ایران بہت جلد ایٹم بم حاصل کر لیتا، اور "پاگل لوگوں” کے پاس ایٹم بم ہونا پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتا تھا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کنٹرول سے باہر ہو رہا تھا اور ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے، اسی لیے ہم نے ایران کے حملوں سے پہلے ہی اس پر حملہ کر کے اسے دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔