اسپین کے وزیراعظم کا امریکی صدر کی دھمکیوں پر کرارا جواب

Wait 5 sec.

میڈرڈ(4 مارچ 2026): اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارت ختم کرنے کی دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے جنگ کی مخالفت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا اعلان کر دیا ہے۔ٹیلی ویژن پر 10 منٹ کے خطاب میں اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یوکرین، غزہ اور 20 سال قبل ہونے والی عراق جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میری حکومت کے موقف کو صرف چار لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے” جنگ نہیں ہونی چاہیے”۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے مشترکہ فوجی اڈوں (مورون اور روٹا) کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر مکمل تجارتی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔حملے کیلیے اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کا اسپین کیخلاف بڑا اقدامجرمن چانسلر فریڈرک میرز سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے اسپین کو خوفناک پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اسپین کے ساتھ تمام تجارت ختم کر دیں گے اور ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔دوسری جانب جرمن چانسلر نے ٹرمپ کو واضح کیا کہ وہ جرمنی یا یورپ کے ساتھ اسپین کو نکال کر کوئی علیحدہ معاہدہ نہیں کر سکتے۔ ٹرمپ نے اسپین پر دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک نہ بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا۔وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایک "تباہی” ہے اور ایک غیر قانونی کام کا جواب دوسرے غیر قانونی کام سے نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے 2003 کی عراق جنگ کی ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران پر حملوں کے معاشی اثرات کروڑوں لوگوں کے لیے تباہ کن ہوں گے۔سانچیز نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ کچھ صدور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے جنگ کی دھول کا سہارا لیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ہم ایرانی قیادت کے ساتھ ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم امن اور بین الاقوامی قانون کے حق میں ہیں یا نہیں۔ اسپین کی حکومت اس وقت جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات سے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔