چند ہفتوں میں امریکا کے اہم انٹرسیپٹر میزائلز ختم ہو سکتے ہیں، الجزیرہ

Wait 5 sec.

دوحہ (04 مارچ 2026): الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں میں امریکا کے اہم انٹرسیپٹر میزائلز ختم ہو سکتے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ہتھیاروں کے لامحدود ذخائر کا دعویٰ کیا تھا، تاہم امریکی میڈیا میں پینٹاگون سے لیک خبروں کے مطابق اگر ایران پر حملے 10 دن سے زائد عرصہ تک جاری رہے تو امریکا کے کچھ اہم میزائلوں کا ذخیرہ کم ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں امریکی صدر دفاعی کمپنیوں کے ایگزیکٹیوز سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں اسلحہ سازی کی رفتار تیز کرنے پر بات کی جا سکتی ہے، نائب امریکی وزیر دفاع 50 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ریتھیون کمپنی ٹوماہاک میزائلوں کی سالانہ پیداوار ایک ہزار تک بڑھانا چاہتی ہے، دفاعی کمپنیوں پر دباؤ ہے کہ وہ شیئر ہولڈرز کو منافع دینے کی بجائے پیداوار بڑھانے پر توجہ دیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں23 فروری کو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ پینٹاگون کے حکام اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف طویل مہم کے خطرات سے آگاہ کیا تھا۔ اسی دوران واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ جنرل کین نے ٹرمپ کو بتایا کہ اہم اسلحے کی کمی اور علاقائی اتحادیوں کی محدود حمایت، امریکا کی جانب سے حملے کی صورت میں ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کو روکنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی اسلحہ ذخائر، جن میں میزائل دفاعی نظام میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی شامل ہے، اسرائیل اور یوکرین جیسے اتحادیوں کی حمایت میں استعمال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنرل کین نے ایسی کوئی وارننگ نہیں دی، اور یہ بھی کہا کہ جنرل ایران کے ساتھ جنگ پر ’’یقین رکھتے تھے۔‘‘