’حکومتیں ارادہ کر لیں تو دہلی کو دوبارہ رہنے لائق بنایا جا سکتا ہے‘، ہولی پر صاف ہوا دیکھ کر اجئے ماکن کا تبصرہ

Wait 5 sec.

دہلی میں ہولی کے موقع پر فضائی آلودگی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس تعلق سے کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ دعویٰ کیا کہ اگر حکومتیں سنجیدگی سے ارادہ کر لیں تو دہلی کو دوبارہ رہنے کے قابل شہر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ’دہلی پولوشن کنٹرول کمیٹی‘ (ڈی پی سی سی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہولی کے دن شہر میں پی ایم 2.5 کی سطح میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔دہلی کی زہریلی ہوا کو اجئے ماکن نے ’پبلک ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دیا، اعداد و شمار سامنے رکھ کر تشویش کا کیا اظہاراجئے ماکن کے مطابق ڈی پی سی سی کے 17 مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہولی کے دن فضائی آلودگی میں اوسطاً 34 فیصد کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں یہ کمی اور بھی زیادہ رہی۔ مثلاً آنند وہار میں پی ایم 2.5 کی سطح میں تقریباً 50 فیصد اور اشوک وہار میں تقریباً 48 فیصد کمی درج کی گئی۔ شہر کا مجموعی اوسط بھی نمایاں طور پر کم ہوا اور پی ایم 2.5 کی سطح 134 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے گھٹ کر 89 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک آ گئی۔ماکن نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ یہ تجزیہ 3 مارچ (عام دن) اور 4 مارچ (ہولی کے دن) کے درمیان ڈی پی سی سی کے 17 اسٹیشنوں سے حاصل ہونے والے گھنٹہ وار پی ایم 2.5 ڈاٹا کے تقابل پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ہولی کے دن سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم رہی اور کئی مقامات پر تعمیراتی سرگرمیاں بھی بند تھیں، جس کی وجہ سے ہر اسٹیشن پر آلودگی میں کمی دیکھنے کو ملی۔होली का असर: सरकारें अगर मन बना लें तो दिल्ली फिर रहने लायक़ हो जाएगी!तरीका (Methodology):DPCC की 17 Monitoring Stations से Hourly PM2.5 Data लिया गया। दो 24 घंटे की अवधि की तुलना की गई:▪️ सामान्य दिन: 7AM, 3 मार्च → 7AM, 4 मार्च▪️ होली का दिन: 7AM, 4 मार्च → 7AM, 5 मार्च… pic.twitter.com/GCgtDF73N3— Ajay Maken (@ajaymaken) March 5, 2026کانگریس لیڈر نے اس بنیاد پر حکومتوں کو آلودگی سے نمٹنے کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کیے۔ ان کے مطابق سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ لوگ ذاتی گاڑیوں کے بجائے عوامی نقل و حمل کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ تعمیراتی مقامات پر سخت ڈسٹ کنٹرول نافذ کیا جانا چاہیے تاکہ گرد و غبار فضا میں نہ پھیلے۔ انہوں نے تیسری تجویز کے طور پر کنجیشن پرائسنگ یعنی بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں گاڑیوں کے داخلے پر فیس عائد کرنے کی بات بھی کہی، جس سے ٹریفک اور آلودگی دونوں کم ہو سکتے ہیں۔تاہم اجئے ماکن نے واضح کیا کہ ہولی کے دن آلودگی میں کمی کے باوجود صورتحال مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق دہلی کے تمام مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر پی ایم 2.5 کی سطح اب بھی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے مسئلے کے حل کے لیے وقتی نہیں بلکہ مستقل اور طویل مدتی اقدامات ضروری ہیں۔ ماکن نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کہا کہ ہولی کے دن آلودگی میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومتیں مؤثر پالیسیاں اپنائیں تو دہلی کی فضا کو نمایاں طور پر صاف کیا جا سکتا ہے۔