واشنگٹن : ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور اب ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکا ایرانی کرد رہنماؤں سے رابطے بڑھا رہا ہے۔امریکی نیوز چینل سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگی صورتحال کے پیش نظر عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے مسعود بارزانی اور بافل طالبانی جیسے اہم کرد رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جو حساس نوعیت کی تھی، لیکن اس گفتگو کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 22 فروری کو ایران سے تعلق رکھنے والی پانچ کرد جماعتوں نے “سیاسی قوتوں کے اتحاد برائے کردستان–ایران” کے نام سے اتحاد قائم کیا۔اس اتحاد کا مقصد موجودہ ایرانی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی جدوجہد کرنا ہے، یہ پیش رفت اس لیے اہم قرار دی جا رہی ہے کیونکہ ان تمام جماعتوں کے نظریات اور پالیسی مؤقف ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی آف ایرانی کردستان کے سربراہ مصطفیٰ حجری سے بھی رابطہ کیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ماضی میں اس جماعت کو بھی نشانہ بنایا تھا۔جن 5 جماعتوں نے یہ اتحاد تشکیل دیا ان کے نام اور سربراہان کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔1 : ایرانی کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی کے آئی) اس کے بانی قاضی محمد تھے، جبکہ موجودہ سربراہ کا نام مصطفیٰ حجری ہے۔2 : کردستان فریڈم پارٹی (پی اے کے ) اس جماعت کے سربراہ حسین یزدان پناہ ہیں۔3 : کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) اس کی شریک سربراہ پیمان ویان ہیں۔4 : کوملہ سوشل ڈیموکریٹ جماعت ہے اور رضا کعبی اس دھڑے کے رہنما ہیں۔5 : خباط نامی اس جماعت کو ایرانی کردستان سولیڈیرٹی اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی بھی کہا جاتا ہے اس کے سیکریٹری جنرل بابا شیخ حسینی ہیں۔اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کرد گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ عراق، ترکی اور پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ خصوصاً کردستان فری لائف پارٹی (پی جے اے کے) کے پی کے کے سے تعلقات ترکی کے لیے حساس معاملہ بن سکتے ہیں۔دوسری جانب سی این این کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی سی آئی اے ایرانی کرد مسلح گروہوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینا ہے۔ایک سینئر ایرانی کرد عہدیدار کے مطابق ایرانی کرد اپوزیشن فورسز آئندہ چند روز میں مغربی ایران میں زمینی آپریشن میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے بڑا موقع ہے،انہوں نے توقع ظاہر کی کہ انہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہوگی۔امریکی حکمت عملی کیا ہے؟رپورٹ کے مطابق کسی بھی منصوبے کے تحت ایرانی کرد فورسز کو مسلح کرنے کے لیے عراقی کرد قیادت کی حمایت ضروری ہوگی تاکہ اسلحہ عراقی کردستان کے راستے منتقل ہوسکے۔ذرائع کے مطابق ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کرد مسلح گروہ ایرانی سکیورٹی فورسز کو مصروف رکھیں تاکہ بڑے شہروں میں غیر مسلح ایرانی شہری دوبارہ سڑکوں پر نکل سکیں اور ماضی کی طرح کچلے نہ جائیں۔سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ کرد فورسز ایرانی حکومت کی فوجی طاقت کو منتشر کر سکتی ہیں اور شمالی ایران میں ایک بفر زون قائم کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔ تاہم سی آئی اے حکام نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بغاوت ناکام رہی اور امریکا پیچھے ہٹ گیا تو یہ کرد گروہوں کے لیے ایک اور مایوس کن تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔