کیا امریکا کو ایران کے خلاف شکست ہوگی؟ چینی پروفیسر جیانگ کی پیشگوئی سامنے آ گئی

Wait 5 sec.

بیجنگ (04 مارچ 2026): چین کے معروف جیو پولیٹیکل تجزیہ کار پروفیسر جیانگ کی تیسری پیشگوئی ایک بار پھر میڈیا میں‌ نمایاں ہو رہی ہے جو ایران کے خلاف امریکی جنگ میں شکست اور فتح سے متعلق ہے۔پروفیسر جیانگ شوچین نے 2024 میں تین بڑی پیش گوئیاں کی تھیں، جن میں پہلی دو پیش گوئیاں سچ ثابت ہو چکی ہیں، پہلی یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدارتی انتخاب جیتیں گے اور امریکا کے صدر بنیں گے، دوسری یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ شروع کریں گے، اور اب وہ اپنی تیسری پیشگوئی پر بھی قائم ہیں۔پروفیسر جیانگ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، اُن کا ماننا ہے کہ ایران یہ جنگ جیت جائے گا، جس سے امریکی عالمی بالادستی کو شدید دھچکا لگے گا، جس کے بعد چین اور روس مضبوط طاقتیں بن کر ابھریں گے۔واضح رہے کہ ان کی دونوں پیش گوئیاں درست ثابت ہونے کی وجہ سے تیسری پیش گوئی امریکا کے لیے باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے، کہ امریکا ایران کے خلاف اس جنگ میں شکست کھا جائے گا۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںجیانگ نے اس ہفتے ’’بریکننگ پوائنٹس‘‘ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا ’’میری جنگ کے تجزیے کے مطابق، میرے خیال میں ایران کے پاس امریکا کے مقابلے میں بہت زیادہ فوائد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی یہ ایک ایسی جنگ ہے جو تھکن اور نقصان کے تبادلے پر مبنی ہے، اور ایرانی اس جنگ کے لیے پچھلے 20 سالوں سے تیار ہو رہے ہیں۔‘‘پروفیسر جیانگ نے مزید کہا ’’ایرانیوں کے مذہب میں یہ ’عظیم شیطان‘ کے خلاف جنگ ہے۔ انھوں نے کئی مشقیں کی ہیں۔ پچھلے جون میں 12 دنوں کی جنگ ہوئی تھی جس میں ایرانیوں نے اسرائیلی اور امریکی حملہ آور صلاحیتوں کا تجزیہ کیا، اور اب ان کے پاس اس نئے حملے کے لیے مکمل تیاری کے لیے 8 ماہ کا وقت بھی تھا۔‘‘جیانگ کے مطابق ’’ایران کے پراکسیز یعنی حوثی، حزب اللہ، حماس اور دیگر ملیشیائیں امریکی ذہنیت کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں اور اب ان کے پاس ایک مضبوط حکمتِ عملی ہے کہ کس طرح امریکی طاقت کو کمزور اور بالآخر تباہ کیا جائے۔‘‘جیانگ نے کہا کہ ایرانی ’’دنیا کی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں‘‘ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’اس لیے خلیجی ممالک کے امریکی اڈے نشانہ بنائے جا رہے ہیں، اور صرف اڈوں کو نہیں، بلکہ ان اڈوں کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بالآخر وہ پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹس کو بھی نشانہ بنائیں گے، جو ان ممالک کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں کیوں کہ یہاں تازہ پانی کی فراہمی محدود ہے۔‘‘انھوں نے کہا دراصل پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹس خلیجی ممالک کے پانی کی 60 فی صد سپلائی فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی ڈرون، جس کی قیمت تقریباً 50,000 ڈالر ہے، ریاض، سعودی عرب میں پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹ کو تباہ کر دے، تو ایک 1 کروڑ (10 ملین) کی آبادی والا شہر دو ہفتوں میں پانی سے محروم ہو جائے گا۔ اور ایران نے آبنائے ہرمز بھی بند کر دی ہے۔