ایران کی لڑائی میں مارے جانے والے امریکی فوجی کون ہیں؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن (04 مارچ 2026): امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز کے بعد ہلاک ہونے والے پہلے 4 امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے خلاف فوجی مہم کا آغاز کیا تھا تب سے کم از کم 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور پینٹاگون نے منگل کے روز ہلاک ہونے والے چار فوجیوں کی شناخت کی تصدیق کی، جب کہ ہلاک ہونے والے باقی دو فوجیوں کی شناخت عوامی طور پر نہیں کی گئی ہے۔پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق، یہ امریکی فوجی آرمی ریزرو کے تھے اور 1 مارچ کو کویت کے ایک تجارتی بندرگاہ پر ’’بے پائلٹ ہوائی جہاز کے حملے‘‘ کے دوران ہلاک ہوئے۔ ان کی موت کی تحقیقات جاری ہیں۔امریکی فوج کے مطابق ایرانی حملوں میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں میں عہدوں کے لحاظ سے ایک کیپٹن، 2 سارجنٹ فرسٹ کلاس اور ایک سارجنٹ شامل ہیں۔ چاروں میں سے ایک خاتون سارجنٹ فرسٹ کلاس بھی شامل ہے، جب کہ عمر کے اعتبار سے سب سے کم عمر فوجی 20 سالہ سارجنٹ ہلاک ہوا ہے۔ چاروں ہلاک شدگان 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کے رکن تھے، جو ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا میں قائم ہے۔ ان کی شناخت درج ذیل ہے:کیپٹن کوڈی اے خورک، عمر 35 سال، ونٹر ہیون، فلوریڈا کا رہائشیسارجنٹ فرسٹ کلاس نوآ ایل ٹیٹجینز، عمر 42 سال، بیلیوو، نیبراسکا کا رہائشیسارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور، عمر 39 سال، وائٹ بیئر لیک، مینیسوٹا کی رہائشیسارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی، عمر 20 سال، ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا کا رہائشیامریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے، بیروت کے قریب ایک ہوٹل اور قم میں مجلسِ خبرگان کی عمارت پر حملہ کیا گیا ہے، جب کہ دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںتہران نے گزشتہ روز مسلسل چوتھی رات بھی اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اہداف پر جوابی حملے کیے، اطلاعات کے مطابق دبئی میں واشنگٹن کے قونصل خانے اور متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کی ایک بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحریہ تعینات کرنے کے لیے تیار ہے، یہ بیان ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس تعطل کے اثرات پہلے ہی خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں عراق نے رمیلہ آئل فیلڈ اور ویسٹ قرنہ 2 منصوبے میں تیل کی پیداوار سست یا معطل کر دی ہے۔امریکا میں ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ایران پر حملے کے حوالے سے ٹرمپ کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر زمینی کارروائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک ایسی ’’طویل اور غیر معینہ مدت کی مہم جوئی‘‘ میں الجھ سکتا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔