ایران پر امریکا اور اسرائیل کی بمباری: 5 روز میں 181 بچے سمیت 1097 افراد شہید

Wait 5 sec.

تہران(5 مارچ 2026): ایران پر امریکا اور اسرائیل کی فضائی بمباری کے ابتدائی پانچ دنوں میں 1,000 سے زائد عام شہری شہید ہو چکے ہیں۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کی فضائی بمباری کے ابتدائی پانچ دنوں میں 1097 عام شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں دس سال سے کم عمر کے 181 بچے بھی شامل ہیں۔حقوقِ انسانی کی تنظیم نے بتایا کہ ہفتے کی صبح شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 1,097 شہریوں کی ہلاکت اور 5,000 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات جمع کی جا چکی ہیں۔یہ جنگ ہفتے کو بڑے پیمانے پر کیے گئے ان فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت دیگر فوجی اور سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مزید 880 اموات کی تصدیق اور درجہ بندی کا عمل جاری ہے۔ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریںاگرچہ ‘ٹائم’ میگزین نے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 108 سے 181 کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران بھر میں فضائی حملوں میں شدت لانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج سارا دن آسمان سے "موت اور تباہی” برسا رہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جنگجوؤں کو صدر کی طرف سے مکمل اختیارات حاصل ہیں، یہ کبھی بھی برابری کی جنگ نہیں تھی اور نہ ہی ہے، ہم انہیں اس وقت مار رہے ہیں جب وہ ٹوٹے ہوئے ہیں، اور یہی درست طریقہ ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج نے بھی تہران میں بڑے پیمانے پر حملے شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تہران سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دارالحکومت کے مختلف حصوں میں بڑے دھماکے دیکھے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے علی خامنہ ای کی آخری رسومات بھی ملتوی کر دی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2 اور 3 مارچ کے درمیان فوجی اڈوں، دو طبی مراکز اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سرپلِ زہاب کے شہداء اسپتال اور ثلاثِ باباجانی کے فیلڈ اسپتال کو بھی نقصان پہنچا۔