’پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ کے بعد ملا فوجی کارروائی کا موقع‘، ایران پر حملہ سے متعلق اسرائیلی سفیر کا بڑا بیان

Wait 5 sec.

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملہ سے متعلق ہندوستان میں اسرائیلی سفیر رووین ازار نے ایک بڑا بیان دے کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی کارروائی تب شروع کی، جب انھیں ’فوجی کارروائی کا موقع‘ ملا، اور یہ موقع وزیر اعظم نریندر مودی کے تل ابیب دورہ کے بعد ہی سامنے آیا۔ انھوں نے یہ بیان انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا ہے۔رووین ازار کے مطابق جب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیلی دورہ پر تھے، اس وقت ایران پر حملہ سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ پی ایم مودی کے دورہ کے دوران دونوں ممالک میں علاقائی حالات و آپسی تعاون جیسے امور پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اس وقت کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی جانکاری نہیں دی جا سکتی تھی، کیونکہ تب تک ایسا کوئی طے فیصلہ موجود نہیں تھا۔ازار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وطن واپس لوٹنے کے بعد تقریباً 2 دن تک حالات پر غور و خوض کیا گیا اور پھر ہفتہ کی صبح سیکورٹی کیبینٹ سے حملہ کی منظوری ملی۔ قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مودی 25 اور 26 فروری کو 2 دن کے سرکاری دورہ پر اسرائیل گئے تھے۔ یہ ان کا دوسرا اسرائیل دورہ تھا۔ اس سے قبل 2017 کے اسرائیلی دورہ کو ہند-اسرائیل تعلقات میں بڑا موڑ تصور کیا گیا تھا۔بہرحال، حالیہ دورہ کے دوران ہندوستان اور اسرائیل نے اپنے رشتوں کو ’خصوصی اسٹریٹجک شراکت دار‘ کا درجہ دیا۔ وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے مجموعی طور پر 17 معاہدوں پر دستخط کیے۔ پی ایم مودی کی وطن واپسی کے 2 دن بعد، یعنی 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل نے مل کر ایران پر فوجی حملہ کیا۔ اس مہم میں کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راجدھانی تہران بھی شامل تھا۔ امریکہ نے اس کارروائی کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ نام دیا۔ حالانکہ امریکہ و اسرائیل میں مختلف لیڈران نے اس مہم کو کئی الگ الگ نام دیے ہیں۔ ایران اس کے خلاف جوابی کارروائی کو ’فتح خیبر‘ نام دیا ہے۔