ماسکو (05 مارچ 2026): روس نے امریکا اور اسرائیل پر عرب ممالک کو مشرق وسطیٰ کے بڑے تنازع میں دھکیلنے کا الزام عائد کر دیا۔روئٹرز کے مطابق روس نے جمعرات کو امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کو پورے خطے میں اہداف پر حملے پر اُبھار کر عرب ممالک کو مشرق وسطیٰ کی بڑی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے نرم پڑنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے۔خلیج کے عرب ممالک، جو امریکا کے قریبی اتحادی ہیں اور بعض کے روس کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ چکے ہیں، یہ حملے اس وقت ہوئے جب امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر فضائی حملے کیے تھے۔روسی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر عرب خلیجی ممالک کو بڑے تنازع میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزارت نے کہا ’’انھوں نے ایران کو بعض عرب ممالک کے اہداف پر جوابی حملے کرنے پر جان بوجھ کر اُبھارا، جس سے انسانی اور مالی نقصان ہوا، جس پر روسی فریق گہری تشویش رکھتا ہے۔‘‘اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںبیان میں مزید کہا گیا ’’ایسا کر کے وہ (واشنگٹن اور تل ابیب) عربوں کو کسی اور کے مفادات کے لیے جنگ میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ ترجمان روسی وزارت خارجہ نے کہا خطے میں کشیدگی کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، استحکام کا واحد راستہ ایران پر حملے روکنا ہے۔یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کو خلیج کے چار عرب ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات کی اور پیشکش کی کہ ماسکو اپنے ایران سے تعلقات استعمال کر کے تہران کی جانب سے خطے میں تیل کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کے بارے میں تشویش پہنچا سکتا ہے۔