واشنگٹن(5 مارچ 2026): ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے ایٹمی صلاحیت والا ہولناک ’ منٹ مین تھری‘ میزائل کا کامیابی سے تجربہ کیا ہے۔امریکا نے ایران کے ساتھ جاری شدید جنگ اور کشیدگی کے دوران اپنے مہلک ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ‘ایل جی ایم-30 جی منٹ مین تھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اسے دنیا بھر میں ‘ڈومز ڈے’ یا ‘قیامت خیز میزائل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔امریکی ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے مطابق یہ میزائل منگل اور بدھ کی درمیانی شب کیلیفورنیا کے وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے فائر کیا گیا۔ میزائل نے بحر الکاہل کے اوپر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کیا اور مارشل آئی لینڈز میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ٓامریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تجرباتی میزائل میں دو غیر جوہری وار ہیڈز نصب تھے جن کا مقصد ہتھیاروں کے نظام کی کارکردگی، درستی اور بھروسہ مندی کا ڈیٹا جمع کرنا تھا۔اگرچہ یہ تجربہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران کیا گیا ہے، تاہم امریکی حکام نے اصرار کیا ہے کہ یہ ایک معمول کا ٹیسٹ تھا جو برسوں پہلے سے طے شدہ تھا اور اس کا موجودہ علاقائی تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیسٹ کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ امریکا کا جوہری دفاعی نظام محفوظ، فعال اور موثر ہے۔منٹ مین تھری ‘قیامت خیز’ میزائل کیا ہے؟یہ امریکا کا واحد زمین سے فائر کیا جانے والا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہے اس میزائل 13,000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی یہ کسی بھی براعظم میں موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔یہ میزائل پرواز کے دوران اس کی رفتار آواز کی رفتار سے 23 گنا زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ صرف 30 منٹ میں اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے، یہ میزائل جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔میزائل تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے اس تنازع نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کی وجہ سے امریکا کی جانب سے کسی بھی اسٹریٹجک جوہری صلاحیت کا مظاہرہ عالمی سطح پر انتہائی حساسیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔