واشنگٹن(4 مارچ 2026): ایران کی جانب سے حملوں میں امریکا کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی ساز و سامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ترک میڈیا ایجنسی کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار اور تخمینوں کے مطابق ہفتے کے روز سے ایران کے خلاف شروع ہونے والے حملوں میں امریکا کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی ساز و سامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مالی نقصان کی سب سے بڑی وجہ قطر کے العدید ایئر بیس پر نصب امریکی ‘AN/FPS-132’ ارلی وارننگ ریڈار سسٹم ہے، جس کی مالیت 1.1 ارب ڈالر ہے۔ ہفتے کے روز ایران کے میزائل حملے میں یہ سسٹم نشانہ بنا، جس کی تصدیق قطری حکام نے بھی کی ہے۔اتوار کے روز کویتی فضائی دفاعی نظام کی مبینہ غلطی (فرینڈلی فائر) کے نتیجے میں 3 امریکی ایف-15 ای (F-15E) اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہو گئے۔ اگرچہ عملے کے تمام چھ ارکان محفوظ رہے، تاہم ان طیاروں کی تبدیلی پر 282 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ہفتے کے روز اپنے ابتدائی جوابی حملے میں ایران نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، جس سے دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز اور کئی بڑی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان ٹرمینلز کی مالیت تنصیب کے اخراجات سمیت تقریباً 20 ملین ڈالر ہے۔ایران نے متحدہ عرب امارات کے الرویس انڈسٹریل سٹی میں نصب تھاڈ (THAAD) اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کے ریڈار جزو ‘AN/TPY-2’ کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے اس حملے کی تصدیق ہوتی ہے، اور اس ریڈار کی مالیت 500 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان تمام نقصانات کو ملا کر اب تک خطے میں 1.902 ارب ڈالر مالیت کے امریکی فوجی اثاثے متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہفتے کو ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران اب تک مشرق وسطیٰ میں کم از کم سات امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنا چکا ہے۔ان میں بحرین میں پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر، کویت میں کیمپ عارفجان، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ، عراق میں اربیل بیس، دبئی میں جبل علی پورٹ اور قطر میں العدید ایئر بیس شامل ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںکویتی فضائی اڈے ‘علی السالم’ کی تصاویر میں عمارتوں کی چھتیں گری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ کیمپ عارفجان میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ عراق کے شہر اربیل میں امریکی افواج کے زیر استعمال حصے پر بھی متعدد حملے کیے گئے، جس سے وہاں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔فوجی اڈوں کے علاوہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی مشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون گرے، جس سے سی آئی اے اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔کویت سٹی میں امریکی سفارت خانہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دبئی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب پارکنگ ایریا میں ایرانی ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی۔واضح رہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے تاحال نقصانات کی حتمی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔