کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ملک میں پیدا ہوئے ایل پی جی بحران کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا۔ پیر کو راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری تناؤ اور کشیدگی نے پورے ملک میں ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ کانگریس صدر کے مطابق آج صورتحال یہ ہے کہ کئی جگہوں پر ایل پی جی کی کمی کے باعث شدید بحران جیسی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس کا اثر غریب اور کمزور طبقات، متوسط طبقے کے خاندانوں، عام گھروں، ریستوراں، ہاسٹل اور تجارتی صارفین پر پڑ رہا ہے۔ملکارجن کھڑگے نے تقریر کے دوران کہا کہ ہندوستان اپنی کُل ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔ اس میں سے بھی تقریباً 90 فیصد درآمد ’آبنائے ہرمز‘ کے راستے ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے موجودہ حالات گھریلو دستیابی اور قیمتوں کے استحکام دونوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ ملک کے تقریباً ہر حصے میں اس کا اثر دیکھا جا رہا ہے، گھروں میں لوگ پریشان ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ڈھابے، ریستوراں، ہاسٹل اور کمیونٹی تک متاثر ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی ایم ایس ایم ای اور دیگر تجارتی صارفین کو بھی ایل پی جی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کانگریس صدر نے مزید کہا کہ یہ تشویشناک امر ہے کہ کئی اداروں کو اپنا کام محدود کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ کچھ لوگ 5000 روپے سے زائد فی سلنڈر سے بھی زائد کی مہنگی قیمت پر ایل پی جی خریدنے کو مجبور ہیں۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے دعویٰ کیا تھا کہ ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور لوگوں کو افواہوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ لیکن زمینی حقیقت سرکاری دعووں سے بالکل مختلف نظر آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب حکومت ہندوستانی شہریوں کو ایران میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کر رہی تھی، اسی وقت یہ واضح ہو گیا تھ اکہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا اثر توانائی کی سپلائی پر بھی پڑ سکتا ہے۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ایسی صورتحال میں وہ فوری طور پر ملک میں ایل پی جی کی فراہمی کی حقیقی صورتحال واضح کرے۔ سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل راستوں اور ذرائع پر کام کرے اور عام شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کو راحت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس علاقائی کشیدگی اور ممکنہ رکاوٹ کے اشارے ضرور ملے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ ’آبنائے ہرمز‘ کے راستے سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر ایل پی جی کی درآمد کے حوالے سے وقت رہتے پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی، متبادل انتظامات کیے جاتے اور سپلائی چین کو محفوظ بنایا جاتا، تو آج ملک کو اس قدر مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔کانگریس لیڈر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس بحران کو وقت رہتے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور اس کے نتیجے میں عام شہریوں، چھوٹے تاجروں اور تجارتی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پورے معاملے پر واضح بیان دے، ایل پی جی کی فراہمی کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور مستقبل میں ایسے بحران سے بچنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی تیار کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت نے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 60 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ وہیں سلنڈر بک کرنے کے بعد انتظار کا وقت شہروں میں 21 سے بڑھا کر 25 دن اور گاؤں و دور دراز کے علاقوں میں 25 سے بڑھا کر 45 دن تک کر دیا گیا ہے۔