یو اے ای میں 19 ہندوستانیوں سمیت 35 افراد گرفتار، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے متعلق فرضی ویڈیو شیئر کرنے کا الزام

Wait 5 sec.

متحدہ عرب امارات نے خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور فرضی ویڈیو کلپ شیئر کرنے کے الزام میں 19 ہندوستانیوں سمیت مجموعی طور پر 35 لوگوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ملکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایمرٹس نیوز ایجنسی‘ (ڈبلیو اے ایم) کے بیان کے مطابق ملزمان کو فوری سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تازہ ترین فہرست میں مختلف ممالک کے 25 لوگ شامل ہیں، جن میں 17 ہندوستانی ہیں۔ یہ گروپ ان 10 افراد سے الگ ہے، جن میں ہفتے کے روز 2 ہندوستانی شامل تھے اور جن کی گرفتاری کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔The United Arab Emirates (#UAE) have taken strict action against 35 individuals, including 19 Indians over misleading posts amid #Iranwar.Read here :https://t.co/b15bHBmJkD#DNAUpdates | #Dubai | #Misleading | #Iran pic.twitter.com/LHJChrBKxp— DNA (@dna) March 16, 2026واضح رہے کہ 15 مارچ کو یو اے ای کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حماد سیف الشمسی نے مختلف قومیتوں کے 25 لوگوں کی گرفتاری کا حکم دیا اور ان کا مقدمہ تیز رفتاری سے چلانے کی ہدایت دی، اس میں 17 ہندوستانی شامل ہیں۔ یہ گروپ ان 10 لوگوں سے الگ ہے جن میں ہفتہ کو 2 ہندوستانی شامل تھے اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر شمسی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی سخت نگرانی کے بعد کی گئی، جس کا مقصد جھوٹی معلومات اور مصنوعی مواد پھیلا کر عوامی سطح پر بے چینی پیدا کرنے اور قومی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کو روکنا تھا۔تحقیقات اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سے معلوم ہوا کہ ملزمان کو 3 گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا گروہ حقیقی واقعات سے متعلق ویڈیو کلپ شیئر کر رہا تھا۔ دوسرا گروہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جعلی ویڈیو بنا کر یا غیر ملکی واقعات کی فوٹیج کو ملک کے اندر کا واقعہ بتا کر شیئر کر رہا تھا۔ جبکہ تیسرا گروہ ایک دشمن ریاست اور اس کی سیاسی و فوجی قیادت کی تعریف کر رہا تھا اور اس کی فوجی کارروائیوں کی تشہیر کر رہا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ یہ کارروائی ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان کی گئی ہے۔ افسران نے پہلے بھی شہریوں کو وارننگ دی تھی کہ سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ اور جعلی مواد شیئر نہ کریں۔