بیٹی سے آخری ملاقات : اسرائیلی اخبار نے علی لاریجانی کے قتل کی اندرونی کہانی بتادی

Wait 5 sec.

یروشلم : اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ’ نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات کئے۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی اخبار ‘دی یروشلم پوسٹ’ نے ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کے حوالے سے انتہائی حساس تفصیلات جاری کر دی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی لاریجانی طویل عرصے سے اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر ‘اہم ترین ہدف’ تھے، تاہم ان کی سخت سیکیورٹی اور خفیہ نقل و حرکت کے باعث ان کا سراغ لگانا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔اخبار کا دعویٰ ہے کہ علی لاریجانی گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل اپنی لوکیشن تبدیل کر رہے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے، اسرائیلی انٹیلی جنس جب بھی ان کے کسی خفیہ ٹھکانے کا سراغ لگاتی، وہ وہاں سے منتقل ہو چکے ہوتے تھے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو بالآخر تہران کے ہی کچھ مقامی شہریوں سے ان کی موجودگی کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق منگل کے روز علی لاریجانی اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے ایک مقام پر پہنچے، جس کی اطلاع اسرائیلی انٹیلی جنس کو بروقت مل گئی۔اسرائیلی حکام نے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپریشن کیا اور انہیں نشانہ بنایا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ تہران کے اندر انٹیلی جنس نیٹ ورک کی موجودگی اور سیکیورٹی میں بڑی نقب کی نشاندہی کرتا ہے۔