نئی دہلی: کانگریس نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اہم ریگولیٹری اداروں میں بڑی تعداد میں خالی آسامیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے تعلیمی نظام کے لیے سنگین مسئلہ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری برائے مواصلات جے رام رمیش کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی سالانہ رپورٹ، جو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پیش کی گئی، اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن جیسے اداروں میں اسامیاں خالی پڑی ہیں، جو نہایت فکر انگیز ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت وی کست بھارت شکشا ادھشٹھان بل 2025 کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے پورے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق موجودہ شکل میں اس بل پر سات بڑے اعتراضات ہیں اور اسے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سامنے زیر غور رکھا گیا ہے۔کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بل کی تیاری کے دوران ریاستی حکومتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست میں شامل ہے اور اس کا براہ راست اثر ریاستی جامعات پر پڑتا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ رویہ وفاقی ڈھانچے کے اصولوں کے خلاف ہے اور ریاستوں کے اختیارات کو نظرانداز کرتا ہے۔’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا‘، یو جی سی تنازعہ پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھانبیان میں آئینی حدود سے تجاوز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس کے مطابق پارلیمنٹ کو صرف اعلیٰ تعلیم میں معیار کے تعین تک محدود اختیارات حاصل ہیں، مگر مجوزہ بل کے ذریعے اس دائرے کو وسیع کر کے ریاستی اختیارات میں مداخلت کی جا رہی ہے، جو آئینی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔فنڈنگ کے معاملے پر بھی کانگریس نے اعتراض اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں ایک جامع کونسل کا تصور پیش کیا گیا تھا، مگر نئے بل میں گرانٹ دینے کے لیے الگ کونسل کا فقدان ہے۔ اس کے نتیجے میں مالی اختیارات خودمختار تعلیمی اداروں سے نکل کر وزارت کے پاس منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے مرکزیت میں اضافہ ہوگا۔بی جے پی نے ڈگری کو ردی اور تعلیمی اداروں کو کھنڈر بنانے کی قسم کھا لی ہے: کانگریسمزید یہ کہ پارٹی نے اعلیٰ تعلیم کے انتظامی نظام میں بیوروکریسی کے بڑھتے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے مطابق جہاں پہلے تعلیمی ماہرین اداروں کی قیادت کرتے تھے، اب وہاں افسران کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جو تعلیمی خودمختاری کو متاثر کر سکتی ہے۔بیان میں قومی اہمیت کے حامل اداروں جیسے آئی آئی ٹیز اور دیگر اداروں کی خودمختاری پر ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ نئے بل کے تحت ان اداروں کو بھی سخت ریگولیٹری دائرے میں لایا جا سکتا ہے، جو ان کی تاریخی آزادی کے خلاف ہوگا۔ کانگریس نے کہا کہ مجوزہ قانون کے ذریعے ریگولیٹری اداروں اور جامعات کے درمیان مشاورتی عمل کو کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ تعلیمی پالیسی کا مقصد اداروں کو زیادہ خودمختاری دینا ہونا چاہیے، نہ کہ ان پر مزید کنٹرول بڑھانا۔