نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب عالمی توانائی نظام پر بڑھتے دباؤ کے درمیان عالمی توانائی ایجنسی نے بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بروقت اور مشترکہ اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی دونوں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ایجنسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جہاں ممکن ہو وہاں ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی سہولت دی جائے، کیونکہ اس سے روزانہ کے سفر میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ شعبے جہاں آن لائن یا دور سے کام ممکن ہے، وہاں یہ طریقہ فوری طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں گھریلو سطح پر بھی تبدیلیوں پر زور دیا گیا ہے۔ ایل پی جی پر انحصار کم کرنے کے لیے برقی چولہوں پر کھانا بنانے کے متبادل اپنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف گیس کی بچت ہوگی بلکہ طویل مدت میں توانائی کے بہتر استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی تیل منڈی کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر صورت حال جلد قابو میں نہ آئی تو سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی کئی عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سڑکوں پر گاڑیوں کی رفتار کم رکھنا، نجی گاڑیوں کے بجائے عوامی نقل و حمل کا زیادہ استعمال کرنا اور بڑے شہروں میں گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کار شیئرنگ اور بہتر ڈرائیونگ عادات کو فروغ دینے سے بھی ایندھن کی بچت ممکن ہے۔رپورٹ میں فضائی سفر میں کمی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ جیٹ ایندھن کی مانگ کم کی جا سکے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایل پی جی کا استعمال صرف ضروری مقاصد، خاص طور پر کھانا پکانے تک محدود رکھا جائے۔صنعتی شعبے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جہاں گیس کی کمی ہو وہاں متبادل ایندھن جیسے نیفتھا استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ دستیاب وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال میں لایا جا سکے۔ایجنسی نے حکومتوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ عوامی بیداری بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں نافذ کریں جو ضرورت مند طبقوں تک ہی امداد کو محدود رکھیں۔ رپورٹ کے مطابق ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ ہدفی امدادی منصوبے زیادہ مؤثر اور معاشی طور پر بہتر ہوتے ہیں، بہ نسبت عمومی سبسڈی کے۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ ایک اہم بحری راستے سے گزرتا ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ عام حالات میں یومیہ کروڑوں بیرل تیل اس راستے سے منتقل ہوتا ہے، مگر موجودہ حالات نے اس نظام کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔عالمی توانائی ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومتیں، کمپنیاں اور عوام مل کر دانشمندانہ فیصلے کریں تو اس بحران کے اثرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔