قومی راجدھانی دہلی میں 2 دنوں کی بارش کے بعد فضائی آلودگی میں وقتی کمی دیکھنے کو ملی ہے، لیکن مجموعی صورت حال اب بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ اس تعلق سے کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور پارٹی خزانچی اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تازہ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں اور بتایا ہے کہ صرف 48 گھنٹوں کے اندر پی ایم 2.5 کی سطح میں 41 فیصد تک کمی آئی ہے۔’دہلی کی فضائی آلودگی سنگین عوامی صحت بحران بن گئی‘، اجئے ماکن نے زہریلی ہوا پر پھر کیا اظہارِ تشویشاعداد و شمار کے مطابق 18 مارچ کو شہر میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 141 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تھی، جو 20 مارچ کو گھٹ کر 83 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہ گئی۔ ماہرین کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجہ تقریباً 7.1 ملی میٹر بارش رہی، جس نے فضا میں موجود آلودہ ذرات کو نیچے بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔موسمیاتی تجزیے (ای آر اے 5) کے مطابق بارش کے ساتھ باؤنڈری لیئر ہائٹ (بی ایل ایچ) 708 میٹر سے گھٹ کر 472 میٹر ہو گئی، جبکہ ہوا کی رفتار 8.4 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم ہو کر 6.8 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ گئی۔ اس کے باوجود آلودگی میں کمی کو مستقل بہتری نہیں مانا جا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سال بہ سال موازنہ میں صورت حال مزید سنگین نظر آتی ہے۔ شہر کے 28 میں سے 15 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ خاص طور پر وزیر پور میں 74 فیصد، آنند وہار میں 77 فیصد اور دہلی یونیورسٹی کے نارتھ کیمپس میں 85 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔️ बारिश ने दिल्ली को राहत दी — PM2.5 में 41% की गिरावट! 48-Hour Comparison (24hr mean ending ~2 PM IST, 20 Mar 2026): 18 Mar: City avg 141 µg/m³ 20 Mar: City avg 83 µg/m³ (-41%)️ ERA5 Weather: 7.1 mm rainfall was the key driver BLH dropped 708→472m, Wind slowed… pic.twitter.com/zz9GBpQVmS— Ajay Maken (@ajaymaken) March 20, 2026یہ بھی تشویشناک ہے کہ شہر کے تمام 32 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی سطح ڈبلیو ایچ او کے مقررہ معیار 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کہیں زیادہ ہے، جو عوامی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، نیشنل کلین ایئر پروگرام (این سی اے پی) کے تحت مختص فنڈز پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس پروگرام کے لیے 19,614 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 11,213 کروڑ روپے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود آلودگی کی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے پر اجئے ماکن نے سوال کیا ہے کہ آخر یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بارش جیسے قدرتی عوامل وقتی راحت تو دے سکتے ہیں، لیکن آلودگی کے مسئلے کا مستقل حل پالیسی، سخت عمل درآمد اور طویل مدتی منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہے۔ فی الحال دہلی کے شہریوں کو صاف ہوا کے لیے مزید مؤثر اقدامات کا انتظار ہے۔