ایل پی جی سے لدا ہندوستانی جہاز ’نندا دیوی‘ آج پہنچے گا گجرات کے کانڈلا بندرگاہ

Wait 5 sec.

قطر سے ایل پی جی لے کر روانہ ہونے والا ہندوستانی جہاز ’نندا دیوی‘ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے گجرات کے کانڈلا بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے ایک دن قبل ’شیوالک‘ نامی جہاز تقریباً 45 سے 46 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر مندرا بندرگاہ پہنچ چکا ہے۔ ان جہازوں کی محفوظ آمد سے حساس سمندری راستے کے ذریعے ایندھن کی سپلائی کو لے کر پیدا ہونے والی تشویش میں کمی آنے کی امید کی جا رہی ہے۔اس سے پہلے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گذرگاہوں کی وزارت کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بین وزارتی بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد ٹینکر کامیابی کے ساتھ کھلے سمندر میں داخل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شیوالک‘ اور ’نندا دیوی‘ نامی دو ہندوستانی ایل پی جی جہاز مجموعی طور پر تقریباً 92 ہزار 700 میٹرک ٹن ایل پی جی ملک لا رہے ہیں۔ یہ دونوں جہاز سرکاری ملکیت والی شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے تحت کام کر رہے ہیں۔راجیش کمار سنہا نے یہ بھی واضح کیا کہ خلیجی خطے میں کام کر رہے تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں کل 22 ہندوستانی جہاز موجود تھے جن پر 611 ملاح سوار تھے۔ تمام جہاز اور ان کے عملے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔خوشخبری! آبنائے ہرمز پار کر ہندوستان پہنچا ایل پی جی سے بھرا جہاز ’شیوالک‘، اب دوسرے جہاز ’نندا دیوی‘ کا ہے انتظارمزید برآں متحدہ عرب امارات سے تقریباً 81 ہزار ٹن خام تیل لے کر آنے والا جہاز ’جگ لاڈکی‘ بھی مندرا بندرگاہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے اور اس کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستانی جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ہندوستان کو راحت! جے شنکر اور عباس عراقچی کی گفتگو کے بعد جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازتیہ امر قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی طرح کی کشیدگی عالمی توانائی سپلائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ ملک کے بڑے بندرگاہ جہازوں کی آمد و رفت اور مال برداری کے نظام پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور شپنگ کمپنیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔