ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کیلیے ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم

Wait 5 sec.

واشنگٹن (22 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی بحری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلیے ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ایران جنگ کے 24 ویں بین الاقوامی بحری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے اور انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز 48 گھنٹوں میں نہ کھولی گئی تو ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا امریکا ایران کے پاور پلانٹس کو مرحلہ وار تباہ کر دے گا اور سب سے پہلے اس کے بڑے پاور پلانٹ کو تباہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کے ایران پر اچانک حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیوں کے ساتھ فوری طور پر بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںآبنائے ہرمز وہ بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کے تجارتی جہاز گزرتے ہیں اور اس آبی گزرگاہ کی مسلسل بندش سے دنیا میں خام تیل اور گیس بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے بعد ان کی عالمی سطح پر قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش : ایران کی کیا جنگی حکمت عملی ہے؟