تہران (22 مارچ 2026): ایران نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت 73 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق چار کے تحت تہتر ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے اور اس کو ’یا حیدر‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس لہر میں ایران نے اسرائیل کے شمال اور جنوب پر میزائل و ڈرون حملے کیے گئے۔ اہداف میں عراد، دیمونا، ایلات، بیر السبع اور کریات گت میں فوجی و سیکیورٹی مراکز شامل ہیں۔ حملے میں فتح، قدر، عماد میزائل سسٹمز اور ڈسٹرکٹ ڈرون استعمال کیے گئے۔جنوبی اسرائیل کے سورکا اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جب کہ ایرانی حملوں کے 150 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب ایران کے مطابق اسرائیل میں اہم فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی نظام کے گرنے کے بعد علی السالم، منهاد، الظفرہ سے امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں اسرائیل میں 200 سے زائد ہلاک اور زخمی ہوئے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد فوجی مراکز پر درست نشانہ اور دباؤ ڈالنا ہے۔۔ ہتھیار ساز مراکز کے قریب رہائش پذیر اسرائیلی شہریوں کی زندگی خطرے میں ہے۔پاسداران انقلاب نے حزب اللہ لبنان کی دفاعی کوششوں کی تعریف بھی کی۔ کہا حزب اللہ نے شمالی اور مرکزی اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔۔ جنگی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور اسرائیلی دفاعی کنٹرول کمزور ہو رہا ہے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںدریں اثنا ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر میزائل حملے کا آغاز کر دیا گیا جس کے بعد اسرائیل کے تل ابیب سمیت متعدد شہروں میں فضائی حملے کے سائرن گونج اٹھے۔ اسرائیلی شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔نیتن یاہو نے ایران کے تازہ حملوں کو اسرائیل کیلیے ’’انتہائی مشکل شام‘‘ قرار دے دیا!