مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ہفتہ کو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ روابط کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت بالخصوص ایران کے خلاف امریکہ اور ایران کے فوجی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر پیزشکیان نے جاری حملوں، غیر قانونی اقدامات اور جرائم کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے بغیر کسی معقول وجہ، منطق یا قانونی بنیاد کے جاری جوہری مذاکرات کے دوران ہی ایران پر فوجی حملے شروع کردیئے تھے۔Telephone Conversation between President Pezeshkian and the Prime Minister of IndiaDr. Pezeshkian, President of the Islamic Republic of Iran, held a telephone conversation on Saturday, 21 March 2026, with Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, during which they discussed… pic.twitter.com/FFjzPnpe81— Iran in India (@Iran_in_India) March 21, 2026انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر، سینئرفوجی کمانڈر اور کئی بے قصور عام شہری جاں بحق ہوگئے جن میں معصوم اسکولی بچے بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچوں کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ نے پڑوسی ممالک میں اپنے فوجی اڈوں سے مناب کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا جس میں 168 معصوم بچے مارے گئے۔ایران نے ہندوستان سے نبھائی دوستی! ایل پی جی سے بھرے 2 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ملی اجازتپیزشکیان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے عالمی رہنماؤں کے ساتھ فون اور آمنے سامنے بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے تاکہ اس کے پُرامن جوہری پروگرام کی نگرانی اور تصدیق کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مغربی ایشیائایران اور اسرائیل جنگی ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی، جس کا مقصد بیرونی مداخلت کے بغیر تعاون کے ذریعے امن و استحکام قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ اور تنازعات کے خاتمے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل فوری طور پر اپنی جارحیت بند کریں اور اس بات کی ضمانت دیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ برکس کی ہندوستان کے پاس موجود صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے پیزشکیان نے اس گروپ سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت کو روکنے اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے تحفظ کے لیے آزادانہ کردار ادا کرے۔ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ کو انتباہ، ’ہمارے پاس بھی کئی حیران کن منصوبے ہیں‘اس گفتگو میں مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عالمی خوراک اور توانائی کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی زرعی برآمدات کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی مسلسل سلامتی کو یقینی بنانے اور خلیج فارس میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم مودی نے مزید زور دیا کہ جنگ کا راستہ منتخب کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے تمام فریقوں کو جلد از جلد امن کی طرف بڑھنا چاہیے۔