برطانوی وزیراعظم مسلمانوں کے دفاع میں بول پڑے

Wait 5 sec.

لندن : ٹریفالگر اسکوائر میں نماز کی ادائیگی پر تنقید کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر مسلمانوں کے دفاع میں سامنے آگئے۔پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی (ٹوری پارٹی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹوری پارٹی کو صرف مسلمانوں سے مسئلہ ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے تہواروں پر کبھی اعتراض نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ ٹریفالگر اسکوائر میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے تہوار بھی باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں، لیکن ٹوری پارٹی صرف اس وقت تنقید کرتی ہے جب مسلمان اپنے مذہبی فرائض یا تہوار ادا کرتے ہیں۔برطانوی وزیراعظم نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ امتیازی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹوری پارٹی نسل پرست عناصر کا ساتھ دے رہی ہے۔یاد رہے کہ میئر لندن صادق خان کے ہمراہ ٹریفالگر اسکوائر میں نماز مغرب کی ادائیگی پر دائیں بازو کے حلقوں اور ٹوری پارٹی کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔اس معاملے پر نک ٹموتھی، جو شیڈو جسٹس سیکریٹری ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر تنقیدی بیان جاری کیا تھا، جس پر وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ردعمل دیتے ہوئے نک ٹموتھی کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔