منی پور میں دوبارہ کشیدگی: مشتعل ہجوم کا ’کے زیڈ سی‘ صدر کے گھر پر حملہ، پولیس کی جوابی کارروائی

Wait 5 sec.

 منی پور کے چورا چاند پور شہر میں زبردست کشیدگی کے دوران کوکی زو کونسل (کے زیڈ سی) کے صدر ایچ تھانگلیٹ کے گھر میں بھیڑ نے گھسنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران بھیڑ کو روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔ اس کے بعد بھیڑ منتشر ہو گئی۔ لوگوں کے وہاں سے جانے کے بعد ایچ تھانگلیٹ نے راحت کی سانس لی۔خبروں کے مطابق اتوار کو کوکی زو کونسل کے صدر ایچ تھانگلیٹ کے گھر میں مبینہ طور پر کچھ عسکریت پسند چھپے ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس بات سے ناراض ہوکر نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اتوار کی دوپہر کو بھیڑ نے صدر کے گھر پر پتھراؤ کرتے ہوئے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران جائے وقوعہ پر موجود سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے گولے چھوڑ کر بھیڑ کو واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد کچھ نوجوانوں نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی جس پر پولیس کو ان کے خلاف ہلکی طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔منی پور میں پھر تشدد، گولی باری اور آگ زنی کے بعد مزید دو اضلاع میں کرفیو نافذ، انٹرنیٹ خدمات معطلحالانکہ اتوار کی رات نوجوانوں نے ایک بار پھر زبردستی صدر کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی۔ صورتحال کو بگڑتے دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے بھیڑ کو پیچھے ہٹانے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے بعد بھیڑ وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ یہ واردات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک دن پہلے منی پور کے وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان اعتماد بحالی کی کوشش کے تحت گوہاٹی میں سول سوسائٹی کوکی زو کونسل کے ساتھ بات چیت کی تھی۔افسران نے مزید بتایا کہ کچھ مظاہرین نے چورا چاند پور شہر کے قریب ٹوئبونگ علاقے میں بھی ہنگامہ کیا۔ کچھ لوگوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ سیکورٹی فورسز نے یہاں بھی آنسو گیس کا استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کیا۔ فی الحال علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں اور افسران صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ مئی 2023 سے لے کر اب تک میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد میں 260 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ منی پور میں فروری 2025 میں صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ اس سال فروری میں سنگھ کی قیادت میں نئی حکومت قائم کی گئی تھی۔ قبل ازیں کے زیڈ سی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ  میٹنگ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی اور اس کا بنیادی مقصد باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔