تہران(18 مارچ 2026): اسرائیل نے فضائی حملے میں انٹیلی جنس منسٹر اسماعیل خطیب کی شہادت کا دعویٰ کردیا۔ اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں گزشتہ رات ہونے والے فضائی حملوں میں ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب اور حزب اللہ کی ‘امام حسین ڈویژن’ کے نئے سربراہ کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیل نے رات گئے تہران پر حملوں میں ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اگرچہ حتمی طور پر ایران کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا تاہم عبرانی میڈیا ‘وائی نیٹ کا دعویٰ ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوتی ہے۔اسماعیل خطیب 2021 میں وزیرِ انٹیلی جنس مقرر ہوئے تھے اور انہیں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔رپورٹس کے مطابق بیروت میں مقیم ‘امام حسین ڈویژن’ کے نئے کمانڈر بھی گزشتہ رات کی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے پیشرو علی طبجہ کی شہادت کے بعد یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ یہ ملیشیا 2016 میں قاسم سلیمانی نے قائم کی تھی جس میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے جنگجو شامل ہیں۔اسرائیلی دفاعی افواج نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایران کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک اور دیگر دفاعی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ کسی ایک فرد کی موجودگی یا عدم موجودگی سے ایرانی ریاست کے مضبوط ڈھانچے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔