ہندوستان کی 800 چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری خطرے میں ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ختم ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس جنگ کے باعث سفر سے لے کر برآمدات کے شعبے تک متاثر ہوئے ہیں۔ ’منی کنٹرول‘ نے اس حوالے سے ایک اعداد و شمار پیش کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے گزشتہ 6 ماہ کے اندر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مجموعی طور پر 1.3 ارب ڈالر (تقریباً 12000 کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کی تھی، جو اب جنگ کی وجہ سے خطرے میں ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان ریٹیل اور ہاسپیٹلٹی سیکٹر کی کمپنیوں کا ہوگا، جہاں 280 ہندوستانی کمپنیوں نے تقریباً 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ’ڈائریکٹ فارن انویسٹمنٹ‘ (براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری) کے اعداد و شمار سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے یہ خطرہ اس لیے بھی بڑا ہے کیونکہ گزشتہ 2 سالوں میں یو اے ای، امریکہ کے بعد ہندوستانی کمپنیوں کے لیے ’ڈائریکٹ فارن انویسٹمنٹ‘ کا دوسرا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سرمایہ کاری کرنے والی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں ان چھوٹی کمپنیوں کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ان کے پاس نقصان برداشت کرنے کی محدود مالی صلاحیت ہوتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ شارٹ ٹرم (مختصر مدت) میں بھلے ہی مشرق وسطیٰ میں مایوسی نظر آ رہی ہے، لیکن یو اے ای میں اس طرح کی سرمایہ کاری کے لیے لانگ ٹرم (طویل مدتی) دلیل اب بھی مضبوط ہے۔ممبئی کی کافی روسٹر کمپنی ’سب کو کافی‘ نے متحدہ عرب امارات میں اپنی مکمل ملکیتی والی ذیلی کمپنی کی فنڈنگ کے لیے 210000 ڈالر بھیجے تھے۔ لائف اسٹائل برانڈ ’برہم لائف اسٹائل پروڈکٹس‘ نے 20 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جبکہ ایک دیگر ہاسپیٹلٹی کمپنی ’ایڈم نیچرل ویلنس‘ نے رواں سال کی شروعات میں تقریباً 680000 ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ حالانکہ یہ سرمایہ کاری اگست-ستمبر 2025 کے بعد ہوئی ہے، لیکن آر بی آئی ان لین دین کی درست تاریخوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتا ہے۔گزشتہ 6 ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی فہرست میں ’گریویس فوڈس‘ جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں، جن کے پاس ہندوستان میں ’باسکن رابنس‘ کا لائسنس ہے اور جنہوں نے 11.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ ایف ایم سی جی ایچ کی کمپنی ’ہلدی رام اسنیک فوڈس‘ نے متحدہ عرب امارات میں 2.8 ملین ڈالر اور ’او یو‘ کی ذیلی کمپنی ’او یو پروپ ٹیک‘ نے خلیجی ممالک میں 11 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کو نقصان اور کاروباری تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر چھوٹی کمپنیوں کے پاس کوئی ’ایکٹو وار انشورنس پالیسی‘ (جنگ سے متعلق فعال انشورنس پالیسی) نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔