ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی سے جہاں ان دونوں ممالک کے سربراہوں کی کئی حلقوں میں تنقید ہو رہی ہے وہیں 2 ’ طاقتور‘ ممالک سے برسرپیکار ایران کے لیے عام لوگوں میں زبردست ہمدردی دیکھی جارہی ہے۔ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، سینئرحکام اور تقریباً 178 معصوم طلبا کی شہادت نے امریکہ کی مخالفت اور ایران کی حمایت اور یکجہتی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔With hearts full of gratitude, we sincerely thank the kind people of Kashmir for standing with the people of Iran through their humanitarian support and heartfelt solidarity; this kindness will never be forgotten.Thank you, India. https://t.co/6rEyYEfjHu— Iran in India (@Iran_in_India) March 22, 2026اس دوران ہندوستان کے مختلف حصوں میں ایران سے یکجہتی کے لیے جہاں مظاہرے منعقد کئے گئے ہیں وہیں جنگ زدہ ایران کی مالی مدد کے لیے بھی بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں اتوار کو جموں و کشمیر کے بڈگام میں بین الاقوامی یکجہتی کی مثال دیکھنے کو ملی۔ سندی پورہ گاؤں کے لوگوں نے ایرانی عوام کی حمایت میں ایک بڑی عطیہ مہم کا آغاز کیا۔ خود مالی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود سینکڑوں گاؤں والوں نے ایران کے لوگوں کے لیے دل کھول کر عطیہ کیا۔ کئی مقامات پر عطیہ کے پروگرام منعقد کئے گئے۔اسی طرح کشمیر کے کئی علاقوں میں لوگوں نے جنگ زدہ ایران کے لیے گھر گھر جاکر مدد جمع کی۔ ان میں نقدی، سونا اور تانبے کے برتن شامل تھے۔ ایرانی سفارتخانے نے اس انسان نواز اقدام پر شکریہ ادا کیا۔ عید کے ایک دن بعد اتوار کو وادی کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں نوجوانوں نے گھر گھر جا کر امداد جمع کی۔ یہ امداد مغربی ایشیا میں ایران پر ہوئے حملے سے متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے تھی۔ رینواری کے رہائشی اعزاز احمد نے اسے ’اسرائیل کے صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی طرف سے مسلط کردہ غیر قانونی جنگ‘ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مہذب دنیا کو ایران کے مصیبت زدہ عوام کے لیے امداد بھیجنی چاہیے۔ اس عطیہ مہم میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ نے شدت اختیار کی، ٹرمپ نے اسپین سے رشتہ توڑنے کا کیا اعلان، دیکھیں تازہ اپڈیٹسخواتین نے خاص طور پر سونے کے زیورات، تانبے کے برتن اور دیگر قیمتی گھریلو سامان عطیہ کئے۔ کچھ خاندانوں نے مدد کے طور پر اپنی حیثیت کے مطابق مویشی بھی عطیہ کئے۔ بچوں نے اپنی بچت اور جیب خرچ دے کر مدد کی۔ یہ عطیات بنیادی طور پر بڈگام اور بارہمولہ میں اکٹھے کیے گئے تھے، جہاں قابل ذکر شیعہ آبادی ہے۔ جمع شدہ عطیات ایرانی سفارت خانے سمیت سرکاری امدادی تنظیموں کے ذریعے ضرورت مندوں کو بھیجے جائیں گے۔اس سلسلے میں ایرانی سفارت خانے نے ’ایکس‘پر تصاویر کے ساتھ اظہار تشکر کیا۔ سفارتخانے نے کہا کہ کشمیر کے رحم دل لوگوں کی انسانی امداد اور قلبی یکجہتی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ سفارتخانے نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کی رحم دلی اور انسانیت نوازی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے اپنی ایک اور پوسٹ میں ہندوستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ یہ عطیہ ایران میں جنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی ومالی نقصان اور متاثرین کی مدد کے لیے ہے۔ اس جنگ کو اسرائیل اور اس کے حامیوں کے ذریعہ مسلط کردہ بتایا جارہا ہے۔ اس کا مقصد ضرورتمندوں تک براہ راست امداد پہنچانا ہے۔ کشمیر کے لوگوں نے اس پہل سے اپنی یکجہتی اور حمایت ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دہلی، لکھنؤ جیسے ملک کے مختلف حصوں میں ایران کے عوام کے لیے امداد جمع کی جارہی ہے۔