ایرانی فوج نے یو اے ای کو راس الخیمہ پر تباہ کن حملوں کی دھمکی دے دی

Wait 5 sec.

تہران (21 مارچ 2026): ایرانی فوج کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو وارننگ دی گئی ہے، ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے اماراتی سرزمین کا استعمال برداشت نہیں کریں گے۔ترجمان نے کہا خلیج فارس میں ایرانی جزائر کے خلاف حملوں میں اماراتی سرزمین استعمال ہوئی ہے، اس طرح کی بار بار جارحیت کی صورت میں ’’راس الخیمہ‘‘ کو نشانہ بنایا جائے گا۔ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے کہا راس الخیمہ کو اپنی تباہ کن ضربوں کی زد میں لے لیں گے، قومی خودمختاری پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جارحیت کے کسی بھی ذریعے پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے، یہ پہلے بھی ثابت کر چکے ہیں، آئندہ بھی سخت ترین ردعمل ہوگا۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، مسائل پیدا کرنے کے اصل ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں، ایران نے خلیجی ریاستوں پر اپنے حملوں کا جواز پیش کیا ہے، خلیجی ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںدوسری طرف قطر نے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کو خط میں فضائی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خط میں قطر نے ایرانی اقدامات کو خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے، اور مؤقف پیش کیا کہ فضائی حدود کی بندش سے مسافروں اور کارگو سروسز شدید متاثر ہیں۔قطر نے متاثرہ مسافروں کے لیے ہنگامی اقدامات، انخلا پروازیں اور سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے تمام حقوق محفوظ رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے، اور خطے میں جلد از جلد ایئرپورٹس کھولنے کی ضرورت پر زور دیا، قطر کا کہنا تھا کہ عالمی فضائی نظام میں اس کا ایک کلیدی کردار ہے۔