’مودی حکومت میں عوام کی جان کی کوئی قیمت نہیں‘، ایئر انڈیا کی حیرت انگیز غلطی پر کانگریس کا سخت رد عمل

Wait 5 sec.

گزشتہ دنوں دہلی سے کناڈا جا رہی ایئر انڈیا کے مسافر طیارہ کو درمیان راستہ سے واپس دہلی لوٹنا پڑ گیا تھا۔ اس کے پیچھے کی وجہ یہ تھی کہ جو طیارہ کناڈا جانا تھا، اس کی جگہ دوسرا طیارہ مسافروں کو لے کر روانہ کر دیا گیا۔ جب یہ خبر پھیلی تو سبھی حیران رہ گئے۔ کسی کو یہ سمجھ نہیں آیا کہ آکر ایئرلائن کمپنی ایسی غلطی کیسے کر سکتی ہے۔ اب اس معاملہ میں کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے اس غلطی کے لیے ایئر انڈیا کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کو بھی نشانے پر لیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت میں عوام کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔‘‘मोदी सरकार में जनता की जान की कोई क़ीमत नहीं है।अब ये ख़बर देखिए- जहां एयर इंडिया की एक फ्लाइट दिल्ली से कनाडा जा रही थी, लेकिन 9 घंटे तक उड़ान भरने के बाद वापस दिल्ली लौटना पड़ा।इसके पीछे की वजह यह है कि 19 मार्च के दिन जिस फ्लाइट को दिल्ली से कनाडा जाना था, उसकी जगह… pic.twitter.com/MqNNjxM21U— Congress (@INCIndia) March 21, 2026کانگریس نے یہ بیان اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر دیا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اب یہ خبر دیکھیے… جہاں ایئر انڈیا کی ایک فلائٹ دہلی سے کناڈا جا رہی تھی، لیکن 9 گھنٹے تک پرواز بھرنے کے بعد اسے واپس دہلی لوٹنا پڑا۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ 19 مارچ کو جس فلائٹ کو دہلی سے کناڈا جانا تھا، اس کی جگہ کسی دوسری فلائٹ میں مسافروں کو بیٹھا کر بھیج دیا گیا۔‘‘ آگے لکھا گیا ہے کہ ’’ایئر انڈیا کو تقریباً 4 گھنٹے بعد سمجھ آیا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے، اس کے بعد فلائٹ کو لوٹنے کا حکم دیا گیا۔‘‘اس غلطی پر کانگریس نے انتہائی حیرانی کا اظہار کیا ہے، اور ساتھ ہی کسی کی جوابدہی طے نہ کیے جانے پر اپنی مایوسی بھی ظاہر کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’یہ کتنی سنگین غلطی ہے، لیکن کہیں کوئی جوابدہی نہیں ہے۔ یہ خطرناک غلطی ایئر انڈیا کے ساتھ مودی حکومت کی ناکامی بھی ظاہر کرتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی پارٹی نے سخت انداز اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت اور ان کا پورا نظام منہدم ہے۔ انھیں بس کرسی کی فکر ہے، عوام کی نہیں۔‘‘