روس نے ایران کو انٹیلیجنس شیئرنگ روکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

Wait 5 sec.

ماسکو (21 مارچ 2026): روس نے ایران کو انٹیلیجنس شیئرنگ روکنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔انادولو نیوز ایجنسی کا کہنا ہے گزشتہ ہفتہ روسی صدر کے نمائندہ خصوصی نے ٹرمپ کے نمائندہ اسٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات میں کہا اگر امریکا یوکرین کو انٹیلی جنس شیئرنگ (جیسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کے درست مقامات) روک دے تو روس بھی ایران کو انٹیلیجنس شیئرنگ بند کر دے گا۔روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ پولیٹیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ماسکو نے واشنگٹن کو ایک ممکنہ تجویز دی تھی کہ اگر امریکا یوکرین کو روس کے خلاف انٹیلیجنس فراہم کرنا بند کر دے تو کریملن ایران کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنا روک دے گا، تاہم امریکا نے روس کی یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔دوسری طرف کریملن نے مشروط آمادگی سے متعلق اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دے دیا ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو تہران کا وفادار دوست اور قابلِ اعتماد ساتھی ہے، امید ہے ایرانی عوام سخت آزمائشوں سے پروقار طریقے سے نکل آئیں گے۔ماسکو تہران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا، ولادیمیر پیوٹنپولیٹیکو نے رپورٹ کیا کہ امریکا اور روس کے مذاکرات سے واقف دو افراد کے مطابق، یہ تجویز روسی ایلچی کیرل دمترییف نے گزشتہ ہفتے میامی میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیئرڈ کشنر کے سامنے پیش کی تھی۔ تاہم دمترییف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں اس تجویز سے متعلق رپورٹ کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا۔ اس کے باوجود اس طرح کی تجویز کے سامنے آنے سے یورپی سفارتکاروں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے، جو سمجھتے ہیں کہ ماسکو ایک نازک وقت میں یورپ اور امریکا کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب ٹرانس اٹلانٹک تعلقات انتہائی اہم مرحلے پر ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںیورپی یونین کے ایک سفارتکار نے روسی تجویز کو ’’انتہائی نامناسب‘‘ قرار دیا۔ اس مجوزہ معاہدے سے یورپ میں پہلے سے موجود ان خدشات میں اضافہ ہونے کا امکان ہے کہ وِٹکوف اور دمترییف کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں یوکرین میں امن معاہدے کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کر رہیں، بلکہ ماسکو انھیں اس موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے کہ وہ واشنگٹن کو ایک ایسے معاہدے کی طرف مائل کرے جس میں یورپ کو نظر انداز کر دیا جائے۔